الحاق کونسل کا اجلاس؛چارلس سوم باضابطہ طورپر برطانیہ کےنئے بادشاہ مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

برطانیہ کی الحاق کونسل نے سینٹ جیمزپیلس میں منعقدہ ایک تاریخی تقریب میں چارلس سوم کوباضابطہ طور پرملک کا نیا بادشاہ قرار دیا ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز اپنی آنجہانی والدہ ملکہ ایلزبتھ دوم کی مثال پر عمل کرنے کا عہد کیا ہے۔

73سالہ چارلس جمعرات کو اپنی والدہ ملکہ ایلزبتھ کی وفات کے فوری بعد ان کے جانشین بن گئے تھے لیکن ہفتے کے روزالحاق کونسل نے اپنا اجلاس منعقد کیا ہے اوراس میں نئے بادشاہ کے بیٹے اور وارث شہزادہ ولیم، اہلیہ کمیلا اور برطانیہ کی نئی وزیراعظم لیز ٹرس نے ایک اعلامیے پر دست خط کیے ہیں۔اس میں شہزادہ چارلس کو قانونی طور پربادشاہ قراردیا گیا ہے۔کونسل کے باضابطہ اجلاس کے دوران میں چھے سابق وزرائے اعظم،اسقفوں اور بہت سے سیاست دانوں نے ’’خدا بادشاہ کی حفاظت فرمائے‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔

چارلس نے کہا کہ میں اس عظیم وراثت اور خودمختاری کے فرائض اور بھاری ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہوں،جو اب مجھے سونپی جا چکی ہیں۔ان ذمے داریوں کو سنبھالنے میں،میں آئینی حکومت کی پاسداری اور ان جزائراور دنیا بھر میں دولت مشترکہ کے علاقوں اور ان کے عوام کے امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کے حصول کے لیے قائم کی گئی متاثرکن مثال پرعمل کرنے کی کوشش کروں گا۔

بعد ازاں سینٹ جیمز پیلس کی فریری کورٹ کے اوپر ایک بالکنی میں گارٹرکنگ آف آرمز ڈیوڈ وائٹ نے روایتی ہیرالڈک ملبوسات میں دیگر افراد کے ساتھ پرنسپل اعلان پڑھ کر سنایا۔

برطانیہ کے سب سے قدیم شاہی محل سینٹ جیمز میں،جو 1530 کی دہائی میں ہنری ہشتم کے حکم سے تعمیر کیا گیا تھا‘چند سو افراد کو ایوان میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔ان میں والدین کے کندھوں پر چھوٹے بچے، گل دستہ تھامے ایک عورت اور موبلیٹی اسکوٹر پربیٹھے بوڑھے شامل تھے۔

یہ اعلان برطانیہ کے دیگر دارالحکومتوں یعنی اسکاٹ لینڈ میں ایڈنبرا، شمالی آئرلینڈ میں بالفاسٹ اور ویلز میں کارڈف اور دیگر مقامات پر بھی سرکاری سطح پر پڑھا جائے گا۔

برطانیہ میں ہفتہ کی صبح سویرے لوگ شاہی محلات کے باہرجمع ہونا شروع ہوگئے اور ہزاروں افراد مرحومہ ملکہ کوخراج عقیدت اور نئے شاہ چارلس کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے بکنگھم پیلس کا رُخ کررہے تھے۔انھیں قریب واقع سینٹ جیمز پیلس میں بادشاہ قرار دیا گیا تھا۔

چارلس برطانیہ کے علاوہ آسٹریلیا، کینیڈا، جمائیکا، نیوزی لینڈ اور پاپوا نیو گنی سمیت 14 دیگرعلاقوں کے بادشاہ اور سربراہ ہوں گے۔

’’قوم کی دادی‘‘

برطانیہ نے ملکہ ایلزبتھ کے سرکاری جنازے تک سوگ کی مدت کا اعلان کیا ہے۔مرحومہ کو ایک بار ان کے پوتے ہیری نے’’قوم کی دادی‘‘قراردیا تھا۔ان کی تدفین کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن ایک ہفتے سے کچھ زیادہ عرصے میں اس کی توقع ہے۔

ملکہ کی آخری رسومات کے لیے لندن میں دنیا بھر کے رہ نماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ان میں امریکی صدرجو بائیڈن بھی شامل ہیں۔انھوں نے جمعہ کوایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ وہ آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔

چارلس کی بہ طور بادشاہ تخت نشینی بعد میں کسی تاریخ کوہوگی اوراس کا وقت ابھی واضح نہیں ہے۔یادرہے کہ ایلزبتھ دوم 1952 میں ملکہ بنی تھیں اور 1953 میں ان کی تخت نشینی کی رسم ادا کی گئی تھی۔ان کے ملکہ بننے اور تخت نشینی کے درمیان 16 ماہ کا فرق تھا۔

نئے بادشاہ نے جمعہ کے روز بادشاہ کی حیثیت سے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں ’’وفاداری، احترام اور محبت‘‘ کے ساتھ قوم کی خدمت کرنے کا عہد کیا تھا۔چارلس نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ انھوں نے اپنے سب سے بڑے بیٹے 40 سالہ ولیم کو ویلز کا نیا شہزادہ بنا دیا ہے، یہ خطاب 50 سال سے زیادہ عرصے سے ان کے پاس تھا اور روایتی طور پر تخت کے وارث کو اس خطاب سے نوازاجاتا ہے۔ولیم کی اہلیہ کیٹ ویلز کی شہزادی بن گئی ہیں۔یہ کردار آخری بار آنجہانی شہزادی ڈیانا کے پاس تھا۔

جمعرات سے اب تک ہزاروں افراد شاہی محلّات میں آنجہانی ملکہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہو چکے ہیں۔کچھ لوگ پھول چڑھاتے ہوئے آنسو بہارہے ہیں اورزیادہ تر برطانوی ایک ایسی ملکہ کی زندگی کا جشن مناناچاہتے ہیں جنھوں نے خودساری زندگی بچپن سے لڑکپن اور بڑھاپے تک ملکہ ہی کو دیکھا اور ان کی شاہی سرگرمیاں ملاحظہ کی ہیں۔

ملکہ ایلزبتھ دنیا کی سب سے عمررسیدہ اور طویل عرصے تک سربراہ مملکت رہی تھیں۔ وہ 6 فروری 1952 کو اپنے والد شاہ جارج ششم کی موت کے بعد تخت پرفائز ہوئی تھیں۔اس وقت ان کی عمر صرف 25 سال تھی۔

گذشتہ سات دہائیوں کے دوران میں انھوں نے اپنی قوم کے سماجی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے میں انقلاب انگیز تبدیلی دیکھی۔انھوں نے بیسویں صدی کے دوسرے نصف اور اکیسویں صدی کے قریباً پہلے ربع میں متحدہ بادشاہت کی رہنمائی کی اور اس عمل میں اسے جدید بنانے میں کردار ادا کرنے پران کی دادوتحسین کی گئی ہے۔رائے عامہ کے جائزے کے مطابق چارلس اپنی والدہ کے مقابلے میں کم مقبول ہیں۔ انھیں اب بادشاہت کے ادارے کے مستقبل کومحفوظ بنانا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں