طالبان انتظامیہ نے طالبات کے سکول کھولنے کے بعد پھر بند کر دیے

ہفتے کے روز سکول پہنچنے والی طالبات فوری طور پر گھروں کو بھیج دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے مشرقی حصے میں واقعہ گردیز شہر میں سیکنڈری سکول دوبارہ بند کر دیے جانے کے خلاف سکولوں کی طالبات نے گردیز کے مرکز میں احتجاج کیا۔

ایک مقام کارکن نے بتایا ہے کہ سکولوں کی یہ بندش محض ایک دن کے لے سکول کھلنے اور کلاسز ہونے کے بعد کی گئی ہے۔ واضح رہے پچھلے ہفتے مشرقی صوبے پکتیا پانچ سکول کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان پانچ سکولوں کے کھولنے کا مطالبہ طالبات کے علاوہ مقامی قبائلی رہنماوں نے بھی کیا تھا۔

لیکن ہفتے کے روز جب سکولوں کی طالبات صبح سویرے اپنے سکولوں کی طرف پہنچیں تو انہیں بتایا گیا کہ وہ گھروں کو واپس چلی جائیں انہیں سکول کھلنے کا شیڈول بعد میں بتایا جائے گا، یہ کہہ کر طالبات کو سکولوں میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

اس پر سکول یونیفارم میں ملبوس بچیوں نے سکول انتظامیہ کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ مقامی طور پر سرگرم کارکن یاسمین نے ایک ریلی منظم کی۔

بتایا گیا ہے کہ ہفتے کے روز جن پانچ سکولوں کو کھولنے کی بار ہوئی تھی ان میں سے چار سکول گردیز میں ہیں جبکہ ایک سکول سمکانی میں واقع ہے۔

طالبان حکومت کا اس بارے میں کہنا ہے کہ وہ پہلے خواتین اور طالبات کو اسلام کے حوالے سے ان کے ویژن کو سمجھیں اور اختیار کریں۔ طالبان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خواتین کو پبلک لائف سے نکال کر گھروں کے اندر اپنا کردار ادا کرنے دینے کی بات کرتے ہیں۔

تاہم طالبان حکومت نے چند گھنٹے بعد ہی طالبات کو سکول میں گزارنے دینے اور اس کے بعد گھروں کو واپس بھیج دیا تھا۔ اس موقع پر طالبات کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئیں جن میں دیکھا جا سکتا تھا کہ طالبات احتجاجی مارچ کررہی تھیں۔

لیکن طالبان نے کسی کو ان کی فوٹیج بنانے کی اجازت نہ دی۔ بلکہ انہوں نے بعض لوگوں کے موبائل فون بھی توڑ دیے تھے۔ حتیٰ کہ صحافیوں کو بھی کوریج کی اجازت نہ دی گئی۔ تھوڑی ہی دیر طالبات کے اس پر امن احتجاج کو سکیورٹی فورسز کے ذریعے منتشر کر دیا گیا۔

ایک شہری نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا 'منتظمین نے سکول محض تکنیکی بنیاد پر بند کیے ہیں اس لیے جیسے ہی اسلامی رہنما اصولوں کے مطابق نصاب تیار کر لیا جائے گا سکول دوبارہ کھل جائیں گے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض علاقوں میں مقامی شخصیات کے دباو کی وجہ سے سکول کھولے جاچکے ہیں۔ البتہ کابل ، قندھار میں طالبات کے سکول ابھی نہیں کھولے گئے ۔ یونیسف کے مطابق اس وقت تقریبا تیس لاکھ طالبات کی تعلیم کا سلسلہ رکا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں