مشرقی یمن مین پانچ سو سال پرانے تاریخی محل کی دیوارزمین بوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مشرقی یمن کی شہر حضر موت گورنری کے شہرسیون میں 500 سال قبل تعمیر کی گئی دنیا کی قدیم ترین اور سب سے بڑی مٹی کی یادگاروں میں سے ایک تاریخی سلطان الکثیری محل (سیون محل) کی دیوار کا ایک حصہ منہدم ہو گیا ہے۔

وادی حضرموت میں نوادرات اور عجائب گھر کے ڈائریکٹر جنرل حسین العید روس کی جانب سے جمعے کے روز شائع کی گئی تصاویر میں تاریخی سیون محل کی دیوار کے ایک اور حصے کے گرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

العیدروس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ "فیس بک" پر کہا کہ سیون محل کی دیوار کا ایک بڑا حصہ نماز جمعہ کے بعد گر گیا اور ملبہ قریب واقع مسجد کی دیوار تک پہنچ گیا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "سیون پیلس (سلطان الکثیری محل) کی مغربی دیوار کے بڑے حصوں کا گرنا اب بھی جاری اور تشویشناک ہے۔"

نوادرات کی اتھارٹی کے ڈائریکٹر نے یمن کے وزیر اعظم حضرموت کے گورنر دلچسپی رکھنے والی تنظیموں اور ثقافتی ورثے سے وابستہ افراد سے اپیل کی کہ وہ تاریخی محل کی دیوار کی باقیات کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ یہ عمارت دنیا میں مٹی کی سب سے بڑی عمارت قرار دی جاتی ہے۔

نوادرات اتھارٹی کے ڈائریکٹر نے تاریخی عمارت کی دیکھ بھال میں ناکامی اور اس حوالے سے لاپرواہی برتنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سلطان الکثیری محل کے ممکنہ انہدام کے حوالے سے پہلے بھی توجہ دلائی تھی مگر پانچ سو سال پرانی اس عمارت کوبچانے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔

سیون میں واقع سلطان الکتیری محل دنیا کی سب سے بڑی مٹی سے بنی عمارتوں میں سے ایک ہے اور یمن میں تعمیراتی شاہکارسمجھی جاتی ہے۔ یہ انیسویں صدی میں تعمیر کی گئی مٹی کی سات منزلہ عمارت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں