یواے ای میں افریقی کارکنوں سے نسل پرستانہ سلوک سے متعلق دعووں کی تردید

بلااستثنا تمام مزدوردستاویزی قانونی معاہدوں کی شرائط کے پابند ہیں:وزارتِ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات نے لندن میں قائم تھنک ٹینک امپیکٹ انٹرنیشنل کی جانب سے افریقی کارکنوں سے مبیّنہ نسل پرستانہ سلوک اوراستحصال کے عاید کردہ الزام کی تردید کی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ اور بین الاقوامی تعاون (ایم او ایف اے آئی سی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یہ الزامات واضح طور پر جھوٹے ہیں اورمحض ان دعووں کا اعادہ ہیں جو پہلے ہی غلط ثابت کیے جاچکے ہیں‘‘۔

برطانیہ میں قائم اس غیرسرکاری تھنک ٹینک نے جمعرات کوایک آن لائن بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ’’اب منظرعام پر آنےوالی شرمناک سرگرمیاں اس نسل پرستی اوراستحصال پر مبنی سلوک کی آئینہ دار ہیں جوبراعظم افریقا سے تعلق رکھنے والے تارکِ وطن مزدوروں کے خلاف اکثرروا رکھا جاتا ہے‘‘۔

ویب سائٹ کے’’ریاستی پالیسیاں‘‘سیکشن کے تحت پوسٹ کیے گئے مواد میں اس گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’زیادہ ترسیاہ فام کارکنوں کو ملک سے زبردستی بے دخل کرنے کا عمل جاری ہے‘‘۔اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’’نائجیریا سے تعلق رکھنے والا ایک قیدی کارکن‘‘ہلاک ہوگیا۔

رپورٹ میں امپیکٹ انٹرنیشنل کو موصول ہونے والی ایک ویڈیو کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔اس میں خیال کیا جاتا ہے کہ یوگنڈا کے کارکن دبئی کی العویرجیل میں "بدسلوکی" پر احتجاج کررہے ہیں۔

اس کے جواب میں وزارت خارجہ میں انسانی حقوق کے محکمے کے ڈائریکٹر سعيدالحبسی نے کہا کہ ’’محدودتعداد میں مزدوروں کی گرفتاری اور ملک بدری کے حوالے سے جو اقدامات کیے گئے،وہ قانونی طریق کار کے مطابق کیے گئے اوربغیر کسی استثنا کے تمام مزدور دستاویزی قانونی مزدوری کے معاہدوں کے پابند ہیں۔ان کے تحت ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے‘‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے:’’متعلقہ فریقوں کو ان معاہدوں کی شرائط کی پاسداری کرنی چاہیے اور کارکن کے ساتھ معاہدے کے تعلقات کا کوئی بھی خاتمہ طے شدہ تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے‘‘۔

سعيدالحبسی نے واضح کیا کہ ’’متحدہ عرب امارات ایسے کیسوں سے نمٹنے میں مکمل شفافیت کے لیے پُرعزم ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں