اٹلی پہنچنے کی کوشش میں چھے شامی ہلاک: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی (یواین ایچ سی آر) نے پیرکو بتایا کہ دو نوزائیدہ بچوں سمیت چھے شامی اٹلی پہنچنے کی کوشش میں پیاس اور بھوک کی شدت سے ہلاک ہو گئے ہیں۔وہ ایک عارضی کشتی کے ذریعے بحرمتوسط (بحیرہ روم) عبور کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق تیس سے زیادہ افراد نے کشتی کے ذریعے سمندر کوعبور کرنے کی کوشش کی۔بچ جانے والوں میں سے بہت سے افراد صحت کی ’’انتہائی سنگین‘‘حالت میں تھے۔

انھوں نے کہا کہ چھے شامی پناہ گزین بشمول بچے، خواتین اور نوعمر افراد سمندر میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اٹلی میں یو این ایچ سی آر کی عہدہ دار چیارا کارڈولیٹی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ وہ پیاس، بھوک اور شدید جلنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔یہ ناقابل قبول ہے۔انھوں نے مزیدکہاکہ سمندر میں انسانی تحفظ کو مضبوط بنانا ان سانحات کی روک تھام کا واحد طریقہ ہے۔

یواین ایچ سی آر کےایک بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک اوردوسال کی عمرکے دوبچے، ایک 12 سالہ بچہ اور تین بالغ شامل ہیں۔ان میں ایک دادی اور ماں بھی شامل ہیں جو سفر میں بچ جانے والے بچوں کے ساتھ سفرکررہی تھیں۔بچ جانے والے 26 افراد کا علاج سسلی کے علاقے پوزلو میں کیا جارہا تھا۔یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ وہ کس ملک سے روانہ ہوئے تھے۔

تارکینِ وطن کے لیے ہاٹ لائن چلانے والے ایک گروپ نے بتایا کہ مالٹا کے ساحل پرقریباً 250 تارکین وطن کو بچاؤ کی ضرورت ہے۔

اس نے بتایا کہ یہ کشتی قریباً ایک ہفتہ قبل لبنان سے روانہ ہوئی تھی اور اب اس کا ایندھن ختم ہوچکا تھا۔ان کھانا اور پینے کا پانی 2 دن پہلے ختم ہوگیا تھا۔گروپ نے ٹویٹر پر پوسٹ میں کشتی پر سوار ایک شخص کے حوالے سے بتایا کہ اس کی 3 ماہ کی بیٹی پیاس سے مرگئی ہے۔

بحیرہ روم میں گذشتہ چند دنوں میں انسانی گروہوں نے کئی سو تارکین وطن کو بچایا ہے۔جرمن این جی او سی واچ نے پیر کے روز بتایاکہ اس کے جہاز میں 428 افراد سوار تھے جو بندرگاہ میں لنگراندازہونے کا انتظار کر رہے تھے۔

یورپی سرحد اور کوسٹ گارڈ ایجنسی فرنٹکس کے مطابق وسطی بحیرہ روم کے راستے جنوری سے جولائی تک 42,500 سے زیادہ تارکین وطن نے سفرکیا ہے۔ان کی تعداد2021 کے پہلے سات ماہ کے مقابلے میں 44 فی صد زیادہ ہے۔

یو این ایچ سی آرکا کہنا ہے کہ سال کے آغاز سے اب تک بحیرہ روم میں 1200 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں