سعودی عرب:منی لانڈرنگ کے مجرم گروہ کےاثاثوں سےایک ارب ڈالرسے زیادہ رقم ضبط کرنے کاحکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے جنرل پراسیکیوشن نے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتارایک جرائم پیشہ گروہ کو 1.06 ارب ڈالر (4 ارب ریال) اور 25 سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری اخباریہ ٹیلی ویژن نے پیر کو خبر دی ہے کہ یہ گروہ ایک سعودی شہری اور دیگر عرب قومیتوں کے حامل پانچ افراد پر مشتمل ہے۔

ان گرفتار افراد کا مقدمہ سماعت کے لیے خصوصی عدالت میں بھیجا گیا تھا۔سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوشن نے ان پر منی لانڈرنگ کا الزام عاید کیا تھا اور انھوں نے 4.29 ارب ریال سے زیادہ کی رقم کی منی لانڈرنگ کی تھی۔غیر ملکی تارکین وطن سعودی شہری کی مدد سے غیر قانونی طور پررقوم کی بیرون ملک منتقلی میں کامیاب رہے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ سعودی شہری نے متعدد اداروں کے تجارتی ریکارڈ حاصل کیے تھے،ان کے بینک کھاتے کھولے اور اداروں کےاکاؤنٹس غیرملکی مکینوں کے حوالے کیے تھے جنھوں نے ان کے ذریعے میں بھاری مالیت کی غیرقانونی کارروائیاں کیں، رقوم جمع کیں اورانھیں بیرون ملک منتقل کیا تھا۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ حکام نے ان افراد کو ضوابط اور جرائم کی غیرقانونی خلاف ورزیوں میں ملوّث پایا ہے۔انھوں نے غیرقانونی ذرائع سے فنڈز اکٹھے کیے تھے اورانھیں بینک کھاتوں کے ذریعے قانونی اور مصفا بنانے کی کوشش کی تھی۔

اس گینگ کے ارکان کے جرائم کے ثبوت پرمشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک منتقل کی گئی رقم کے مساوی مالیت کی رقم ان مجرموں کے کھاتوں یا اثاثوں سے ضبط کی جائے۔یہ بینک کھاتوں اور تجارتی رئیل اسٹیٹ میں ضبط کردہ فنڈز کے علاوہ رقم ہے۔

عدالت نے اس مقدمے میں ماخوذ افراد پر بیس کروڑ ریال جرمانہ عاید کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔سعودی شہری کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔قید بھگتنے کے بعد اتنی ہی مدت تک اس کے ملک چھوڑنے پابندی ہوگی۔

الاخباریہ کے مطابق غیرملکی مکینوں کو 25 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔قید کی مدت بھگتنے کے بعد انھیں سعودی عرب سے بے دخل کردیا جائے گا اور اس کے بعد ان کے مملکت میں دوبارہ داخلے پرپابندی ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں