تہران کے ساتھ ناکام ایٹمی مذاکرات سے آگے بڑھنے کا وقت ہے:اسرائیلی وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرمن چانسلر اولاف شولز نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ اس بات پر متفق ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے۔ انہوں نے برلن سے اسرائیلی وزیر اعظم یائر لپیڈ کے ساتھ آج پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کی کہ "ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدہ ہونا ضروری ہے۔"

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے پاس 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے حوالے سے یورپی ممالک کی تجاویز کو مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ تہران نے ابھی تک مثبت جواب نہیں دیا ہے۔

ناکام مذاکرات

درایں اثنا اسرائیلی وزیراعظم یائرلپیڈ نے زور دے کر کہا کہ ایرانی جوہری معاہدے پر اس کی موجودہ شرائط کے ساتھ واپس آنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔ انہوں نے ایران کو جوہری ریاست بننے سے روکنے کے لیے اجتماعی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سابقہ ناکام مذاکرات سے آگے بڑھا جائے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تہران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دنیا کو خطرہ لاحق ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایران کے جوہری بم حاصل کرنے کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران کے جوہری پروگرام کا مقابلہ کرنا

اس سے قبل پیر کے روزلیپڈ نے برلن میں جرمن صدر فرانک والٹر اسٹین میئر کے ساتھ ایک گھنٹہ تک جاری رہنے والی دو طرفہ ملاقات کے دوران ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

لیپڈ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے مطابق انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔

قابل ذکر ہے کہ ایران کے بارے میں فیصلہ کن یورپی بیان کے بعد لپیڈ نے جوہری مذاکرات میں "مضبوط موقف" کے لیے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا شکریہ ادا کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے جوہری معاہدے کی بحالی کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

انہوں نے کل اتوار کو وزراء کونسل کے اپنے ہفتہ وار اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ تل ابیب نے یورپی ممالک کو متعدد مقامات پر ایرانی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے حالیہ انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں