آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ایک بار پھر سے جھڑپوں کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مغربی ایشیا اور مشرقی یورپ کی سرحد پر واقع ممالک آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ایک بار پھر سے فوجی جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

روس کی خبررساں ایجنسی 'انٹر فیکس' کے مطابق آرمینیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تازہ کشیدگی کے بعد روس کا تعاون طلب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں بھی اپیل کرے گی۔

اس سے قبل سنہ 2020ء میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دہائیوں سے نگورنو کاراباخ کے متنازعہ علاقے پر چھ ہفتوں تک فوجی تنازعہ چلا تھا جس کے بعد آذربائیجان نے ان علاقوں پر کامیابی سے اپنا قبضہ جما لیا تھا۔

آرمینیا کی حکومت کے مطابق وزیر اعظم نکول پشینیان نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے علاوہ فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں اور امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے بھی رابطہ کر کے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔

آذربائیجان کی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں آرمینیا کو کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ "آذربائیجان کی فوج کے کئی مورچوں، شیلٹرز اور پوزیشنز کو آرمینی فوج کی جانب سے گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔"

آذربائیجانی بیان کے مطابق آرمینیا کے اہلکار سرحد پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور اپنے ہتھیار سرحد کے قریب منتقل کر کے کھدائی کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں