سنہ 2030ء تک سعودی آبادی کے لئے مزید 20 ہزار میڈیکل بیڈز کی ضرورت ہے

صحت کا شعبہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے سنہری موقع ثابت ہوسکتا ہے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

طبی ماہرین کے مطابق سعودی عرب کو سنہ 2030ء تک مزید 20 ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتالوں کی ضرورت ہو گی تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنجز سے نمٹا جاسکے۔

بین الاقوامی ادارے 'کولیئرز انٹرنیشنل' کے صحت ا ور تعلیم کے ڈائریکٹر منصور احمد نے مملکت میں شعبہ صحت پر تازہ ترین رپورٹ کی رونمائی کرتے ہوئے اہم حقائق شئیر کئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی حالیہ آبادی 3 کروڑ 65 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے مگر سعودی قیادت کے پر عزم وژن 2030 کی بدولت مملکت کے نظام صحت سمیت تمام معیشت میں بنیادی تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔

کولئیرز کے اندازے کے مطابق 2030ء تک سعودی عرب کی آبادی جو کہ اس وقت 61 فی صد مقامی اور 39 فیصد تارکین وطن پر مشتمل ہے، چار کروڑ 37 لاکھ نفوس تک پہنچ جائے گی۔

سعودی عرب کے ایک پراپرٹی کنسلٹنٹ 'نائٹ فرینک' کے مطابق مملکت میں 2030ء تک پانچ لاکھ 55 ہزار نئے رہائشی یونٹ، 2 لاکھ 75 ہزار سے زائد ہوٹل کے کمرے، 43 لاکھ سکوائر میٹر کمرشل جگہ جبکہ 61 لاکھ سکوائر میٹر آفس کی جگہ تعمیر کی جائے گی۔

'کولئیرز' کے مطابق ان تمام اعداد و شمار کےحوالے سے2020ء میں 78 ہزار 600 ہسپتال کے بستروں کو بڑھا کر 2030 تک 98 ہزار تک لانا ہوگا تاکہ سعودی آبادی کو صحت کی معیاری سہولیات بروقت میسر ہو سکیں۔

منصور احمد کے مطابق مملکت سعودی عرب میں ہسپتالوں کی کمی سرمایہ کاروں کے لئے سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک ہسپتال کے بستر کا اوسط ریوینیو تقریبا 5 لاکھ 75 ہزار ڈالر ہے جو کہ 2030 تک مہنگائی اور دیگر عوامل کے سبب 7 لاکھ 82 ہزار ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

اس وقت مملکت کے کل ہسپتالوں سے اوسط ریوینیو 45٫2 ارب ڈالر ہے جو کہ تمام شرائط مکمل ہونے کی صورت میں 76٫7 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں