ملکہ کی رحلت: آسٹریلیا کے بعد نیوزی لینڈ کو بھی جمہوریہ بنانے کی بحث شروع

نیوزی لینڈ ان 15ممالک میں شامل جو برطانوی بادشاہت کی سربراہی میں آتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ ملکہ برطانیہ کی رخصتی کے بعد ہم مستقبل قریب میں ملک کو جمہوریہ میں تبدیل کرنے کا کوئی اقدام نہیں اٹھائیں گے، تاہم انہیں امید ہے کہ ایک روز ایسا ہو گا۔

پیر کے روز ان سے پوچھا گیا کہ ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد نیوزی لینڈ کے جمہوریہ میں تبدیل ہونے کی بحث شروع ہو گئی ہے تو آرڈرن نے کہا ’’یہ فوری نوعیت کا سوال نہیں ہے، بہت سے چیلنجز ہیں جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔ اس معاملہ پر بحث اہم ہے تاہم میرا نہیں خیال کہ اس معاملہ کو جلد پیش کیا جائے گا یا کیا جانا چاہیے۔‘‘

نیوزی لینڈ ان 15ممالک اور خطوں میں سے ایک ہے جہاں برطانوی بادشاہ ریاست کا سربراہ کہلاتا ہے۔ ان ممالک میں آسٹریلیا اور کینیڈا بھی شامل ہیں۔ اگرچہ برطانیہ کی یہ حیثیت ایک رسمی کردار تک محدود ہے تاہم ان ملکوں میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا ان کو ایک جمہوریہ بن جانا چاہیے جس کی سربراہی ان کے اپنے شہریوں کے پاس ہو۔

آرڈرن نے کہا نیوزی لینڈ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چیزیں چل رہی ہیں اور میرا گمان ہے کہ یہ معاملہ بھی سامنے آئے گا تاہم مجھے کسی قریبی وقت میں ایسا کوئی اقدام ایجنڈے میں شامل ہوتا نہیں نظر نہیں آرہا۔

انہوں نے بتایا نیوزی لینڈ 26 ستمبر کو ملکہ کی یاد میں تقریب منعقد کرے گا اور اس روز نیوزی لینڈ میں عام تعطیل ہو گی۔ آرڈن نیوزی لینڈ کی نمائندگی کرتے گورنر جنرل کے ساتھ ملکہ کی آخری رسومات میں شرکت کریں گی۔ وہ بدھ کو لندن کیلئے روانہ ہو رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں