کینگرو نے آسٹریلوی شہری قتل کرکے طبی عملے کو اس تک پہنچنے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آسٹریلوی پولیس نے آج منگل کو اعلان کیا ہے کہ جنوب مغربی آسٹریلیا میں ایک جنگلی کینگرو نے ایک شخص کو ہلاک کر دیا۔ مقتول شخص اسے پالتو جانور بنا کر پال رہا تھا۔ 1936 کے بعد آسٹریلیا میں کینگرو کا یہ پہلا مہلک حملہ ہے۔

77 سالہ بوڑھے کے ایک رشتہ دار نے اتوار کو 77 سالہ شخص کو مغربی آسٹریلیا کے دارالحکومت پرتھ سے 400 کلومیٹر جنوب مشرق میں دیہی ریڈمنڈ میں واقع اپنے گھر پرمردہ حالات پایا۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اس شخص پر دن کے شروع میں ایک کینگرو نے حملہ کیا تھا۔ پولیس اہلکاروں نے ایک کینگرو کو گولی مار دی کیونکہ اس نے طبی عملے کو زخمیوں تک پہنچنے سے روک دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کینگرو ہنگامی عملے کے لیے ایک مستقل خطرہ تھا۔ حادثے میں اس شخص کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔

پولیس کا خیال ہے کہ مقامی آسٹریلوی باشندوں کو پالتو جانور کے طور پر رکھنے پر قانونی پابندیوں کے باوجود متاثرہ شخص جنگلی کینگروز کو پالتو جانور کے طور پر پال رہا تھا۔

مغربی سرمئی کنگرو یا سیاہ چہرے والا کینگرو جنوب مغربی آسٹریلیا میں عام پایا جاتا ہے اور اس کا وزن 54 کلوگرام تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کی اونچائی 1.3 میٹر ہے۔

کچھ نر کینگرو جارحانہ ہوتے ہیں اور انسانوں پر انہی طریقوں سے حملہ کرتے ہیں جو وہ ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

کینگروز اپنے مخالف کو مارنے کے لیے اپنے چھوٹے اوپری اعضاء کا استعمال کرتے ہیں، اس کے علاوہ اپنی پٹھوں کی دم پر ٹیک لگاتے ہیں اور پھر اپنے طاقتور پیروں کے پنجوں سے مارتے ہیں۔

38 سالہ ولیم کروکشینک 1936 میں ہیلسٹن نیو ساؤتھ ویلز کے ایک ہسپتال میں کینگرو کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔

سڈنی مارننگ ہیرالڈ نے اس وقت رپورٹ کیا کہ کروکشانک کو اپنے کتوں کو کینگرو کے حملے سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔اس میں اس کا جبڑا بھی ٹوٹ گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں