امریکا کا افغان مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالر ٹرسٹ کے ذریعے منتقل کرنے کا اعلان

ٹرسٹ طالبان کے زیر کنٹرول نہیں ہو گا، تاہم اس سے گرتی ہوئی معیشت مستحکم کرنے میں مدد ملے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکا نے ایک نئے سوئس ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے افغانستان کے مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالر منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے جو طالبان کے زیر کنٹرول نہیں ہوں گے، جس سے گرتی ہوئی معیشت مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق ٹرسٹیز بورڈ کے ماتحت افغان فنڈ سے ملک بجلی جیسی اہم درآمدات کی ادائیگی کر سکتا ہے، اس کے علاوہ عالمی اقتصادی اداروں کو قرض کی ادائیگی، ترقیاتی امداد کے لیے افغانستان کی اہلیت کا دفاع اور نئی کرنسی کی پرنٹنگ کے لیے بھی فنڈز فراہم کر سکتا ہے۔

امریکی ڈپٹی سیکریٹری برائے خزانہ ویلے ایڈیمو نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان فنڈ کو محفوظ رکھا جائے گا اور مخصوص 3.5 ارب ڈالر کا اجرا ملکی معیشت میں زیادہ سے زیادہ استحکام لانے کے لیے مددگار ہو گا۔

امریکی حکام نے کہا کہ افغان مرکزی بینک میں اس وقت تک رقم منتقل نہیں کی جائے گی جب تک اس میں سیاسی مداخلت ختم نہیں ہوتی، جہاں بینک کے اعلیٰ طالبان عہدیداروں کے حوالے سے سفارتی تعطل بھی پیدا ہوا تھا کیونکہ ان میں سے دو عہدیدار ایسے ہیں، جن پر اقوام متحدہ اور امریکا کی پابندی عائد ہے اور منی لانڈرنگ کے خلاف حفاظتی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

امریکی ڈپٹی سیکریٹری برائے خزانہ ویلے ایڈیمو نے مرکزی بینک کے سپریم کونسل کو ایک خط میں لکھا کہ جب تک شرائط مکمل نہیں کی جاتیں ڈی اے بی (افغان سینٹرل بینک) میں فنڈ منتقل کرنا ناقابل فہم خطرہ ہوگا اور افغان عوام کی مدد خطرے میں پڑے گی۔

جنیوا میں قائم نیا فنڈ کا اکاؤنٹ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) میں ہے اور یہ فنڈ مرکزی بینکوں کو مالی خدمات فراہم کرتا ہے۔

بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بی آئی ایس افغانستان کے لوگوں کے لیے فنڈ کے ساتھ صارفین کے تحت تعلقات بنا رہا ہے، جس کا کردار فنڈ کے انتظام یا فیصلہ سازی میں شامل کیے بغیر فنڈ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کو بینکنگ خدمات فراہم کرنے اور ان پر عمل درآمد تک محدود ہے اور وہ تمام قابل اطلاق پابندیوں اور ضوابط کی تعمیل کرے گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق صرف اس فنڈ سے گرتی ہوئی معیشت کے سنگین مسائل حل نہیں ہوں گے اور انسانی بحران مزید بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ سردیوں کا موسم آنے کو ہے جبکہ افغانستان کی 4 کروڑ آبادی کا نصف حصہ شدید بھوک اور افلاس کا شکار ہے۔

طالبان کا سب سے بڑا مالی چیلنج مالی امداد کی تلافی کرنے کے لیے نیا سرمایہ پیدا کرنا ہے، جس پر حکومتی اخراجات کا 75 فیصد تک خرچ ہوتا جو کہ دو دہائیوں تک رہنے والی جنگ کے خاتمے پر امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد اگست 2021 میں کابل پر طالبان کی واپسی کے ساتھ ہی امریکا اور دیگر عطیہ دہندگان نے امداد روک دی تھی۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نئے فنڈ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کی معیشت کو سنگین ساختی مسائل کا سامنا ہے جس میں طالبان کے قبضے کے بعد اضافہ ہوگیا ہے‘۔

معاشی بحران کی وجوہات میں دہائیوں پر محیط جنگ، خشک سالی، عالمی وبا کورونا، بے تحاشا بدعنوانی، اور عالمی بینکوں سے افغانستان کے سینٹرل بینک کا منقطع ہونا شامل ہیں۔

نئے فنڈ کا قیام امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ، سوئٹززلینڈ اور دیگر فریقین کے درمیان مذاکرات کے دو مہینوں بعد عمل میں آیا ہے جہاں طالبان نے امریکا کی طرف سے منجمد کیے گئے 7 ارب ڈالر افغان مرکزی بینک میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو افغان طالبان کی طرف سے مبینہ طور پر پناہ دینے، انسانی حقوق بالخصوص بچیوں کے سیکنڈری اسکول بند کرکے تعیلم کے حق سے محروم رکھنے پر عالمی برادری اور امریکی ناراضی کے باوجود بھی یہ مذاکرات جاری رہے۔

رواں برس فروری میں امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانسان کے عوام کو سہولیات دینے کے لیے 3.5 ارب ڈالر نئے ٹرسٹ فنڈ میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان کے دیگر 3.5 ارب ڈالر 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر حملوں کے حوالے طالبان کے خلاف جاری مقدمات پر خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ بقیہ رقم پر عدالت فیصلہ دے سکتی ہے جس کے بعد وہ نئے فنڈ میں منتقل کر دیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ افغان مرکزی بینک کے دیگر 2 ارب ڈالر کے اثاثے یورپی اور اماراتی بینکوں میں منجمد ہیں اور وہ بھی اس نئے فنڈ میں منتقل کردیے جائیں گے۔

امریکی حکام نے کہا کہ اس فنڈ کی نگرانی ایک بورڈ کرے گا جس میں امریکی حکومت کے نمائندے، سوئس حکومت کے نمائندے، افغان مرکزی بینک کے سابق سربراہ اور سابق وزیر خزانہ انور احدی اور ایک امریکی ماہر تعلیم شاہ محرابی شامل ہیں جو ڈی اے بی سپریم کونسل میں شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں