نیویارک ٹائمز کے 1300 ملازمین نے دفاتر واپس جانے سے انکار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے ایک ہزار سے زائد ملازمین نے اپنے دفاتر میں واپس آنے سے انکار کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر کمپنی نے ٹائمز گلڈ کے مطالبات پورے نہیں کیے تو وہ ہڑتال کریں گے۔

یونین کی ویب سائٹ نے پیر کو کہا گیا ہے کہ یونین نے نیو یارک ٹائمز کی قیادت کو تقریباً 1,300 نیوز گلڈ ملازمین کے ناموں کا ایک خط بھیجا جنہوں نے اس ہفتے دور سے کام جاری رکھنے کے عہد پر دستخط کیے، پہلے ہفتے کمپنی اپنے صحافیوں کو دفتر میں واپس لانا چاہتی ہے۔

یونین نے کہا کہ ہم کمپنی کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ ہمارے کام کے حالات کو یک طرفہ طور پر تبدیل نہیں کر سکتی۔ وہ گھروں سے معیاری کام جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "دفتر میں کسی بھی واپسی کو منصفانہ اجرت، اراکین کے ساتھ منصفانہ سلوک اور دیگر معاملات کے حوالے سے بات چیت میں داخل ہونا چاہیے کیونکہ ان کا تعلق اخبار کے کام کی جگہ سے ہے۔"

نیویارک ٹائمز کے 1,300 ملازمین کے دستخط شدہ اس خط کو سب سے پہلے دی ڈیلی بیسٹ نے رپورٹ کیا تھا۔

ڈیلی بیسٹ کے ایک خط میں رپورٹر ایملی اسٹیل نے لکھا کہ "جب میں نے 2014 میں ٹائمز میں کام کرنا شروع کیا تو میری تنخواہ128,000 ڈالرتھی اور تب سے میرے میرٹ میں دو مرتبہ اضافہ ہوا ہے۔

نیویارک پوسٹ کے ایک ترجمان نے منگل کو دی ہل کو بتایا کہ اخبار نے "دفتر واپس آنے کے لیے بتدریج، لچکدار انداز وضع کرنے کے لیے ساتھیوں کی بات کو غور سے سنا جو تمام ملازمین کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے وقت اور جگہ فراہم کرے گا۔"

"ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ لوگوں کو کبھی کبھی دفتر میں اور دوسرے اوقات میں دور دراز سے مل کر کام کرنے کی اجازت دینے سے سب کو فائدہ ہو گا اس بات کو یقینی بنا کر کہ ہم مضبوط اور باہمی تعاون کے ماحول کو برقرار رکھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں اپنے شعبے میں سب سے زیادہ انعامی پیکجز پیش کرنے پر فخر ہے اور ہمیں ایک بڑے اور بڑھتے ہوئے نیوز روم پر بھی فخر ہے۔"

نیویارک ٹائمز نے حالیہ برسوں میں اپنے صارفین میں نمایاں طور پر اضافہ کیا ہے۔ ایتھلیٹک اسپورٹس ویب سائٹ کے ملٹی ملین ڈالر کے حصول کے بعد اپنے برانڈ کو بڑھایا ہے اور کرونا وائرس وبائی مرض کے آغاز کے بعد سے اپنے پوڈ کاسٹ اور نیوز لیٹرز کو بڑھانا جاری رکھا ہے۔ اپریل میں اخبار نے جو کاہن کو اپنا نیا ایگزیکٹو ایڈیٹر مقرر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں