بھارت:نابالغ دلّت لڑکیوں کوعصمت ریزی کے بعد قتل کرنے والے چھے ملزمان گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت کی شمالی ریاست اُترپردیش میں پولیس نے نچلی ذات دلت سے تعلق رکھنے والی دو لڑکیوں کی مبیّنہ عصمت ریزی اور قتل کے الزام میں چھے مشتبہ افراد کوگرفتارکرلیا ہے۔ان دونوں بہنوں کی لاشیں ایک روز قبل درخت سے لٹکی ہوئی ملی تھیں۔

مقامی پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کے ضلع لکھیم پورکھیری کے ایک گاؤں میں پیش آیا ہے۔ان دونوں لڑکیوں کی عمریں 15 اور17 سال بتائی گئی ہیں۔ چھے ملزمان کو جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ ایکٹ (پوکسو) 2012 کی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا اوران کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

پولیس نے چھے ملزمان کی شناخت چھوٹو، جنید، سہیل، حفیظ الرحمٰن، کریم الدین اور عارف کے نام سے کی ہے۔تمام ملزمان اور لڑکیاں ایک ہی گاؤں سے تعلق رکھتی ہیں۔پولیس نے یہ بھی بتایا کہ ایک ملزم مقابلے کے بعد پکڑا گیا۔

ملزم چھوٹو ماضی میں لڑکیوں سے شناسا تھا اور اسی نے تین ملزمان سے لڑکیوں کا تعارف کرایا تھا۔ لکھیم پور کھیری کے ایس پی سنجیو سمن نے بتایا کہ بعد میں جب لڑکیوں نے انھیں شادی کے لیے مجبور کرنا شروع کیا تو ملزمان نے گلا گھونٹ کر پھانسی دے دی۔

مقتولہ لڑکیوں کی والدہ نے بتایا کہ جب وہ بدھ کی سہ پہر تین بجے کے قریب غسل کر رہی تھیں تو انھوں نے چھوٹو کو سنا جو اکثر ان کے علاقے میں آتا رہتا تھااور ان کی بیٹیوں کو فون کرتا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ جلد ہی تین لڑکے اور آگئے اوران کی بیٹیوں کو گھسیٹ کر لے جانے لگے۔میں نے انھیں روکنے کی کوشش کی اور ان کے پیچھے بھاگی، لیکن انھوں نے مجھے مارا پیٹا اوربھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے۔

لڑکیوں کے اہل خانہ نے مستقبل میں اس طرح کے جرائم کی روک تھام کی امید میں ملزمان کو سزائے موت دینے کی درخواست کی ہے۔ مقتولہ لڑکیوں کے بھائی نے کہا کہ ہم صرف ملزمان کے لیے پھانسی (سزائے موت) چاہتے ہیں۔

ان ملزمان کے خلاف ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر)بدھ کی رات دیرگئے جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ کی دفعہ 3 اور 4 (جنسی حملہ) ایکٹ کے علاوہ تعزیرات ہند کی دفعات 302 (قتل)، 323 (رضاکارانہ طور پر چوٹ پہنچانا)، 452 (گھر میں زیادتی) اور 378 (چوری) کے تحت درج کی گئی تھی۔

بدھ کی شام جب یہ خبر پھیلی تومشتعل مقامی لوگوں نے احتجاج کیا اور ایک سڑک بلاک کر دی۔پھراعلیٰ پولیس عہدے داروں کی مداخلت اور مجرموں کے خلاف مکمل تحقیقات اور سخت کارروائی کی یقین دہانی کے بعد ہی انھوں نے ناکا بندی ختم کی تھی۔

ضلع کے سپرنٹنڈنٹ پولیس سنجیو سمن نے صحافیوں کو بتایا کہ چار ملزمان ان لڑکیوں کو لالچ دے کر کھیت میں لے گئے تھے اور وہاں ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

سمن نے بتایا کہ اس واقعہ کی تفصیلی تحقیقات ابھی زیرالتوا ہیں، ابتدائی تفتیش سے ایسا لگتا ہے کہ لڑکیوں کوپہلے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر اسکارف سے ان کے گلے گھونٹ کر درخت سے لٹکا دیا گیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق متاثرہ خاندانوں نے پولیس کو بتایا کہ دونوں لڑکیوں کو موٹرسائیکلوں پر سوار افراد نے اغوا کیا،انھوں نے پہلے انھیں زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں قتل کردیا۔

ریاست اُترپردیش کے نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کوانصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کام کرے گی۔انھوں نے کہا کہ ہماری حکومت اس طرح کے واقعات کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے اور ہم قوانین کے مطابق واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارت میں خواتین اور بالخصوص نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والی عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات عام ہے۔قریباً ڈیڑھ ارب کی آبادی کے اس ملک میں بہت سے لوگ اب بھی ذات پات کے قدیم نظام کی پیروی کرتے ہیں۔اس میں دلتوں کو سب سے کم تر سمجھاجاتاہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں