سلمان رشدی دوبارہ لکھنا شروع کر دے گا: دوست کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گستاخانہ کتاب کے مصنف سلمان رشدی پر حملہ کے بعد سے اس کی صحت کے حوالے سے معلومات کو صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے۔ سلمان رشدی کے اہل خانہ اور اس کے قریبی ساتھی اس سلسلے میں مکمل راز داری اپنائے ہوئے ہیں۔ تاہم حال میں ہی ایک دوست نے سلمان رشدی کے حالات سے متعلق کچھ آگاہی دی ہے۔

سوکیتو مہتا نے بتایا ہے کہ مشہور اور متنازع مصنف کو لگنے والی چوٹ خطرناک ہے تاہم وہ اپنے مضبوط عزم اور پختہ ارادے کے باعث جلد لکھنے کی طرف واپس لوٹ آئیں گے۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں مہتا نے بتایا کہ انتہائی خراب صحت اور شدید چوٹوں کے باوجود ’’ شیطانی آیات‘‘ کے مصنف کا دماغ مکمل کام کر رہا ہے۔ سلمان رشدی بولنے اور لکھنے کے قابل ہے۔ مصنف کے عزم اور پختہ ارادے کو کوئی چیز نہیں توڑ سکتی۔

ہندوستانی نژاد برطانوی مصنف کی صحت سے متعلق یہ مختصر انکشافات 12 اگست کو نیو یارک میں مصنف پر ایک تقریب میں اس کے لیکچر سے قبل خنجر کے وار پر مشتمل حملے کے ایک ماہ بعد سامنے آئے ہیں۔

خمینی کے فتوی کے 33 سال بعد حملہ

کشمیر سے تعلق رکھنے والے مسلمان خاندان میں پیدا ہونے والے رشدی نے 1988 میں گستاخانہ کتاب لکھی اور اس کے قتل کا فتوی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے 1989 میں دیا تھا۔ اس فتوی کے بعد رشدی برطانوی پولیس کے تحفظ میں 9 سال تک پوشیدہ رہا اور 2022 میں فتوی کے 33 سال بعد اس پر حملہ ہوگیا۔

اس دوران ایران کی جانب سے رشدی کے قتل کے انعام میں اضافہ بھی کیا گیا اور فتوی برقرار رکھا گیا۔ 2019 میں ٹوئٹر نے ایرانی لیڈر علی خامنہ ای کے اکاؤنٹ کو اس وجہ سے بند کر دیا تھا کہ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ رشدی کیخلاف فتوی کو منسوخ نہیں کیا گیا اور رشدی کا قتل اب بھی جائز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں