شنگھائی کانفرنس: صدر شی اور مودی کے درمیان 'ون آن ون' ملاقات کا امکان نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین کے صدر شی جنگ پنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کے درمیان دو طرفہ فوجی جھڑپوں کے دو سال بعد پہلی بار آمنا سامنا ہو گا۔ یہ آمنا سامنا شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران ازبک شہر ثمر قند میں ہو گا۔

تاہم دونوں رہنماوں کے درمیان 'ون آن ون ' ملاقات ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ واضح رہے چین اور روایتی طور پر حریف پڑوسی ملکوں کے طور پر جانے جاتے ہیں، کہ دونوں ملکوں کے درمیان جغرافیائی تنازعات بھی موجود ہیں۔ تاہم 2020 میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں نے کشیدگی میں زیادہ اضافہ کر دیا ۔

تب سے اب تک دونوں ملکوں کے رہنماوں کا آپس میں آمنا سامنا نہیں ہوا تھا۔ نہ ہی دونوں کے درمیان بات چیت کی کوئی صورت بنی تھی۔ لیکن شنگھائی کانفرنس میں دونوں کے درمیان ٹاکرا ہو جائے گا۔ اس شنگھائی کانفرنس میں روسی صدر ولادی میر پوتین بھی شرکت کریں گے۔

بھارتی سیکرٹری خارجہ وینا کواترا نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے مودی کی صدر شی سے اکیلے میں ملاقات کا امکان نہیں ہے۔ دوسری جانب چین نے بھی دونوں ملکوں کے سربراہان کے درمیان ایسی کسی امکانی ملاقات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

روسی صدر کے ساتھ البتہ مودی کی امکانی ملاقات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ شنگھائی کانفرنس کے مستقل ممبران میں چین، روس، بھارت، پاکستان، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں