'نیوم'، مصنوعی زہانت سے دھڑکنے والا مستقبل کا شہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصنوعی ذہانت کی حیثیت نیوم سٹی میں دھڑکتے دل کی ہو گی۔ یعنی نیوم سٹی اسی دھڑکن کی وجہ سے جیتا جاگتا نظر آئے گا۔ سعودی عرب کے کاروباری اور سیاحتی اعتبار سے پرچم بردار نیوم کے مستقبل کے شہر 'دی لائن' اور اس سے جڑے مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی خبر اس وقت سنائی دی جب مصنوعی ذہانت کے موضوع پر کانفرنس دارالحکومت میں اختتام پذیر ہو رہی تھی۔

اس غیر معمولی کانفرنس کے ایک سیشن کو 'مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل جڑواں' کا نام دیا گیا تھا۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے نیوم سٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر نظمی النصر نے کہا 'مصنوعی ذہانت 500 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والے شہر کے جدید ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی بدولت مستقبل کی قیادت کرے گی۔'

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق نظمی النصر نے 'دی لائن پراجیکٹ' پر بات کرتے ہوئے کہا 'یہ شہر نوے لاکھ کی آبادی کو اپنے اندر سموئے گا۔ عمودی ڈیزائن کی ایک جدید اور غیر معمولی بستی بسے گی۔ یہ شہر دنیا کا مستقبل ثابت ہو گا۔ اس کا مصنوعی ذہانت کے استعمال پر انحصار ہو گا، اس ناطے یہ اپنی مثال آپ شہر ہو گا۔

واضح رہے مصنوعی ذہانت کی ریاض میں تین دن تک جاری رہنے والی کانفرنس میں 200 مقررین نے تقریریں کیں اور مقالہ جات پڑھے۔ شاہ عبدالعزیز انٹر نیشنل سنٹر میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر سرپرستی منعقدہ اس بین الاقوامی کانفرنس میں 90 ممالک سے ماہرین نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس جمعرات کو اختتام پذیر ہوئی۔

تین روزہ مصنوعی ذہانت کی یہ سہ روزہ کانفرنس سعودی ڈیتا اینڈ انٹیلی جنس اتھارٹی کے اہتمام منعقد کی گئی۔ اس میں فوکس 'مصنوعی ذہانت انسانیت کے بھلائی کے لیے' پر تھا۔ کانفرنس جو 13 ستمبر سے 15 ستمبر تک جاری رہی، اس میں مجموعی طور پر 10000 لوگ شریک ہوئے۔ ان میں پالیسی ساز، ماہرین اور مشیران سطح کے لوگوں کی بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔

ان شرکا میں سے بہت سوں نے ریاض شہر کو مصنوعی ذہانت کا شہر قرار دیا۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ولی عہد نے ریاض میں اس کانفرنس کے انعقاد کی ہدایت اس لیے کی تھی کہ وہ اسے دنیا کے بڑے تجارتی و معاشی مراکز میں سے ایک دیکھنا چاہتے ہیں۔

معاہدے اور شراکت

کانفرنس کے تین دنوں میں بین الاقوامی ماہرین کا پلیٹ فارم ثابت ہوا، اس دوران کئی بین الا اقوامی معاہدوں اور کاروباری شراکتوں پر دستخط ہوئے۔ یہ معاہدات مصنوعی ذہانت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ٹیکنالوجی سے متعلق دنیا کی بڑی کمپنیوں کے چیف ایبزیکٹو آفیسرز اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں نے اس کانفرنس کو ایک بہت بڑے کاروباری تعاون اور شراکت کے مرکز میں تبدیل کر دیا تھا۔

ایک اہم معاہدہ سعودی معرب کی مصنوعی ذہانت کمپنی کا دنیا کی لیڈنگ کمپنی 'سینس ٹائم' کے ساتھ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت مملکت سعودیہ میں 200 ملین ڈالر کی خطیر رقم سے ایک نئی کمپنی قائم کی جائے گی۔

اجلاس کے اختتام پر سدایا اور گوگل کلاوڈ نے خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک منصوبہ کا اعلان بھی کیا۔ نیزآئندہ پانچ سالوں میں خواتین کے لیے مصنوعی زہانت اور مشین لرننگ کی پچیس ہزار نوکریوں کا اعلان بھی کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں