ایران میں زیر حراست خاتون کی تشدد سے موت ناقابل معافی: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تہران میں "اخلاقی پولیس‘‘ کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ایک ایرانی خاتون کی موت کو امریکی وائٹ ہاؤس نے "ناقابل معافی" قرار دے دیا۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے جمعے کے روز اپنی ٹوئٹ میں کہا ’’ہمیں ایران میں 22 سالہ مہسا امینی کی موت پر گہری تشویش ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اسے ایران کی اخلاقیات کی پولیس نے دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کی موت ناقابل معافی ہے۔ ہم انسانی حقوق کی ایسی پامالیوں پر ایرانی حکام کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کیلئے کام جاری رکھیں گے۔‘‘

تہران میں مظاہرے

دوسری طرف مہسا امینی کی دوران حراست اس ہلاکت پر تہران میں مشتعل لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ ایرانی حکومت نے دارالحکومت میں انٹرنیٹ بھی معطل کر دیا ہے اور کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے۔

زیر حراست خاتون کے ساتھ کیا ہوا؟

تہران میں "اخلاقی" پولیس‘‘ نے "نامناسب نقاب" پہننے کی پاداش میں 20 سالہ مہسا امینی پر حملہ کر کے اسے حراست میں لے لیا۔ دوران حراست مہسا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون کی حالت بگڑی تو پولیس کو اسے ہسپتال منتقل کرنا پڑ گیا۔ اپنے نامناسب سلوک پر پردہ ڈالتے ہوئے پولیس نے دعویٰ کیا کہ لڑکی کو اچانک دل کی تکلیف ہوئی تھی جس پر اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

تاہم رپورٹس پولیس کے دعویٰ کی نفی کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مہسا امینی کی بگڑتی حالت کو نظر انداز کر دیا تھا۔ دیگر قیدیوں نے احتجاج شروع کر دیا تو پولیس خاتون کو ہسپتال منتقل کرنے پر مجبور ہو گئی۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ مہسا کو دل کا دورہ پڑا اور فالج کا حملہ ہوا جو بعد ازاں جاں لیوا ثابت ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں