حیفا پورٹ کے ارب پتی بھارتی مالک دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی نے حال ہی میں اسرائیل کی حیفا بندرگاہ خریدنے کے بعد بین الاقوامی کاروباری لوگوں میں ہل چل مچا دی تھی، مگر ان کے حوالے سے ایک تازہ خبر یہ آئی ہے کہ وہ بین الاقوامی آن لائن کاروباری ادارے’امازون‘ کے مالک جیف بیزوس کے بعد دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔

بھارتی گوتم اڈانی نے چند ہفتے قبل اسرائیل کی حیفا بندرگاہ خرید کی تھی تاہم ان کا شمار تیسرے درجے کے امیر ترین شخص میں ہوتا تھا۔

بلومبرگ کی ارب پتی رینکنگ میں گوتم نے ایک بڑی "لاجسٹک" پیش رفت کرنے کے دو ہفتے بعد ارب پتیوں کی فہرست میں اپنا نیا مقام بنا لیا ہے۔

ملبوسات فیشن کی مختلف برانڈز کے مالک فرانسیسی ارب پتی برنارڈ ارنولٹ گوتم اڈانی سے پیچھے چلے گئے ہیں۔ ارنولٹ کا فرانس سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ’LVMH‘ کاروباری گروپ نے نام سے بزنس ہے اور وہ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ہیں۔

"بلومبرگ"میں گوتم اڈانی کی طرف سے یہ اطلاع دی گئی کہ ہندوستان کی سب سے بڑی بندرگاہ چلانے والے اڈانی گروپ کے بانی کی دولت دو ہفتے قبل 137 ارب ڈالر سے بڑھ کر رواں سال 16 ستمبر کو 153.7 ارب ڈال ہو گئی۔

دو بچوں کے باپ گوتم اڈانی کو بھارت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امرا میں شامل کیا جاتا ہے۔ انہیں سنہ 1988ء میں ایک گینگ نے تاوان کے لیے اغوا کیا تھا تاہم بعد ازاں تاوان وصول کیے بغیر ہی رہا کردیا گیا۔

سنہ 2008 میں ممبئی کے تاج محل پیلس ہوٹل کے اندر ہونے والے ایک دہشت گردانہ حملے کے وقت بھی اڈانی اس ہوٹل میں موجود تھے۔ اگرچہ اس حملے میں اکتیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے مگر اڈانی جن کی عمر اب ساٹھ سال ہے محفوظ رہے تھے۔

"اڈانی گروپ" کی سرگرمیاں جس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی وہ سربراہی کرتے ہیں ہندوستان اور آسٹریلیا میں بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، قابل تجدید توانائی اور کوئلے کے بڑے بڑے مراکز تک پھیلی ہوئی ہیں۔

انہوں نے سنہ 2020 میں ممبئی ہوائی اڈے کے 74 فیصد شیئرز خرید لیے تھے۔ انہوں نے کنکریٹ سیکٹر میں ماضی کو ہندوستان میں سوئس کنکریٹ دیو "ہولکم" کو 10 ارب اور 500 ملین ڈالر میں حاصل کرنے کے بعد بنایا ہے۔

ایک ماہ قبل ان کے گروپ نے اسرائیلی کمپنی "گیڈوٹ" کے تعاون سے 2054 تک حیفا بندرگاہ کو چلانے کا ٹینڈر جیتا تھا، جس میں اس کے گروپ کے لیے ایک ارب 800 ملین ڈالر کا 70 فیصد حصہ شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں