شمیمہ بیگم کو’داعش‘ میں بھرتی کرنے والے راشد کا انجام موت یا سیاسی پناہ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

خبروں کی سرخیوں میں رہنے والی برطانوی نژاد ’داعشی‘ خاتون جنگجو ’شمیمہ بیگم‘ جسے ’داعش کی دلہن‘ بھی کہا جاتا ہے کو برطانیہ سے ترکیہ اور وہاں سے شام میں داعش تک پہنچانے میں ملوث ملزم محمد راشد کو گذشتہ روز رہا کر دیا گیا۔

حال ہی میں برطانیہ میں یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ شمیمہ بیگم کو جب اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی داعش میں کس نے شامل کیا تھا؟ شمیمہ کی داعش میں بھرتی میں محمد الراشد نامی ایک ڈبل ایجنٹ کا نام آتا ہے جس کے خلاف ترکیہ میں مقدمہ چلایا گیا۔

اس کیس کی تحقیقات جاری ہیں، نئی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ترک حکام نے کینیڈا کی انٹیلی جنس سروسز میں اس ڈبل ایجنٹ کو رہا کر دیا ہے۔ یہی شخص شمیمہ کو برطانیہ سے شام میں داعش کی صفوں میں شامل کرنے کا ذمہ دار تھا۔

سزائے موت ناگزیر

ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق محمد الراشد جمعے کی دوپہر سے آزاد ہیں، اور انہیں کینیڈا میں سیاسی پناہ دی جا سکتی ہے۔

جبکہ کینیڈین انٹیلی جنس سروسز کا دفتر واضح وجوہات کی بناء پر ایجنٹ کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں سے پہلی یہ ہے کہ ترکی اسے دوبارہ اپنی سرزمین پر قبول نہیں کرے گا۔ تاہم اگر اسے کینیڈا کے بجائے شام منتقل کیا گیا تو شامی رجیم اسے ‘’داعش‘ کے سہولت کارکے طور پر غدار قرار دے گی اور اسے پھانسی دی جا سکتی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ کینیڈین سکیورٹی سروسز نے راشد کو ایک کینیڈین جاسوس کے طور پر چھپایا تھا جو "داعش کی دلہن" کی سمگلنگ میں ملوث ثابت ہوا تھا جب کہ برطانیہ اس کی بین الاقوامی سطح پر تلاش کر رہا تھا۔

کینیڈا کی حکومت نے نوجوان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات چھپائی تھیں۔ برطانوی حکومت خاتون کو عوامی طور پر تلاش کرنے کے لیے انتباہ جاری کر رہی تھی، کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنے ملک کے موقف کے بارے میں دفاع کیا۔

ممکنہ کشیدگی

اس کا ماننا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اس کی انٹیلی جنس خدمات کو لچکدار رہنے اور اپنے نقطہ نظر میں تخلیقی ہونے کی ضرورت ہے۔

تاہم کینیڈا کے فیصلے پر شاید کسی کا دھیان نہ جائے۔ وہ یہ کہ اس سے برطانوی اور کینیڈین انٹیلی جنس سروسز کے درمیان تناؤ بڑھے گا۔ خاص طور پر چونکہ دونوں فائیو نیشنز انٹیلی جنس گروپ کے رکن ہیں جس میں امریکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ یہ معلومات "داعش کی دلہن" کے ایک حالیہ انٹرویو میں اس اعتراف کے بعد منظر عام پر آئی ہیں کہ محمد الراشد نامی شخص نے اس سے اپنی دو سہیلیوں 16 سالہ کادیزہ سلطانہ اور پندرہ سالہ امیرہ عباسی کے ساتھ ملایا تھا۔ یہ ملاقات سفر کی سہولت کے لیے استنبول کے ایک بس اسٹیشن پر ہوئی تھی جہاں سے ان تینوں نے داعش کے علاقوں میں جانا تھا۔

بعد میں پتہ چلا کہ وہ ایک ڈبل ایجنٹ تھا جس نے کینیڈا کو بیگم کے پاسپورٹ کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور داعش کے لیے لڑنے کے لیے درجنوں کوافراد کو برطانیہ سے اسمگل کیا اور کینیڈین حکومت نے تقریباً 7 سال تک اس معاملے پر پردہ ڈالا۔

یہ پتہ چلا کہ اردن میں کینیڈا کے سفارت خانے نے 2013 میں جب شمیمہ کی اسمگلنگ سے دو سال قبل، ایک سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرائی تھی تو راشد سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ داعش کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات جمع کرے تو وہ اس کی شہریت حاصل کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے ان لوگوں کے پاسپورٹوں کی تصاویر لیں جنہیں وہ ٹکٹوں کی خریداری کے طور پر داعش کو اسمگل کرتا تھا، لیکن درحقیقت انہیں کینیڈا کے انٹیلی جنس ایجنٹ کو بھیجتا تھا۔

ناکام کوششیں

جہاں تک شمیمہ بیگم کا تعلق ہے تو وہ ایک 15 سالہ برطانوی طالبہ تھیں جب اس نے 2015 میں مشرقی لندن سے شام تک بیثنال گرین اکیڈمی میں اپنے دو ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ سفر کیا۔

اس نے دہشت گرد تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کی یہاں تک کہ اس نے ڈچ نژاد ایک انتہا پسند سے شادی کر لی۔ یہ جنگجو شمیمہ سے آٹھ سال بڑا تھا۔ ان کے تین بچے ہوئے جو تینوں وفات پا گئے۔

قومی سلامتی کی وجوہات کی بنا پر لڑکی سے 2019 میں اس کی برطانوی شہریت واپس لی گئی تھی۔

اسے معاف کرنے کی اس کی تمام کوششیں اور درخواستیں ناکام ہوئیں، حالانکہ شمالی کیمپوں میں اس کی جان کو خطرہ ہے۔

اس کے باوجود اس نے اعلان کیا کہ وہ نومبر میں خصوصی امیگریشن اپیل کمیٹی کو ایک نئی درخواست جمع کرائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں