روس اور یوکرین

ناقابل یقین مناظر: سیٹلائٹ تصاویر نے ایزوم میں بکھری لاشوں کا پردہ چاک کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یوکرین کے علاقے خار کئیف کے شہر ایزوم میں روسی فوج پر مغربی دنیا اور یوکرین کی جانب سے انسانیت سوز مظالم کے الزامات کے جلو میں اب سیٹلائٹ تصاویر میں روسی افواج کی بربریت کے روح فرسا مناظر بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درختوں کے درمیان اجمتاعی قبر میں لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔

تصاویر میں روسی فوج کے انخلا سے پہلے اور بعد کے جنگل کے مناظر دکھائے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ درختوں کے درمیان اجتماعی قبر کھودی گئی تھی۔

لاشوں کی حالت

لاشوں کے یہ مناظر اس وقت سامنے آئے جب مقامی حکام نے قبر سے سینکڑوں لاشیں نکالنا شروع کیں جن میں کچھ کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ بعض کے گلے میں پٹے تھے۔

جمعے کے روز حفاظتی سوٹ اور ماسک پہنے ہوئے یوکرین کے اہلکاروں نے قبر کی جگہ کو کھودنا شروع کیا تو درختوں کے درمیان تقریبا 200 لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔

خار کئیف کے گورنر نے کہا یہ ایک اجتماعی قبر ہے۔

انہوں نے کہا لاشوں کے ہاتھ پیچھے سے بندھے ہوئے ہیں، حکام تحقیقات کریں گے اور اس معاملہ سے قانونی طور پر نمٹا جائے گا۔

من إيزيوم في خاركيف شمال شرق أوكرانيا (رويترز)
من إيزيوم في خاركيف شمال شرق أوكرانيا (رويترز)

جنگی جرائم

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یہ قبرستان روسی جنگی جرائم کا ثبوت ہے۔ انہوں نے رائٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ بہت سی لاشیں شمال مشرق میں دیگر مقامات پر بھی مدفون ہیں۔ زیلنسکی نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں غیر ملکی طاقتیں یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی بڑھائیں۔ جنگ کے نتائج کا انحصار باہر سے ہتھیاروں کی ترسیل کی رفتار پر ہے۔

انہوں نے کہا یہاں 450 لاشوں کو دفن کیا گیا ہے لیکن بہت سے مقامات پر الگ الگ طور پر بھی لوگوں کو قتل کرکے دفنایا گیا ہے۔ ملنے والی ان لاشوں کی حالت سے واضح ہے کہ ان لوگوں پر تشدد کیا گیا۔ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں سے پورے خاندان غائب ہیں۔

خوفناک مناظر

واضح رہے چند روز قبل یوکرینی فورسز کی جانب سے ایزوم پر دوبارہ قبضہ کے بعد شہر میں لاشوں کے اخراج کے ہولناک مناظر سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا پر گردش کرنا شروع ہوئے تھے۔

یوکرینی فورسز کے شہر پر قبضہ کے بعد گزشتہ ہفتے روس نواز انتظامیہ کا سربراہ وٹالی گینشیف شہر سے نکل گیا تھا۔ گینشیف نے ان مناظر سامنےآنے کے ردعمل میں روسی سرکاری ٹی وی’’24‘‘ کو بتایا کہ میں نے ایزوم میں کسی اجتماعی تدفین کے متعلق نہیں سنا۔

 إيزيوم کا ایک جنگل جس میں دسیوں نعشیں دفنائی گئیں: رائیٹرز فوٹو

روسی صدر پوٹن نے یوکرین کے ان الزامات کا فوری جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے یوکرینی افواج کی جانب سے جوابی کارروائیوں پر خبر دار کیا کہ اگر یوکرینی افواج کی جانب سے حملے جاری رہے تو ماسکو زیادہ طاقت سے جواب دے گا۔

یورپ کی سب سے بڑی اجتماعی قبر

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر یوکرین میں اس اجتماعی قبر کی لاشوں کی تعداد کی تصدیق ہو جائے تو یورپ میں 1990 کی دہائی میں لڑی جنے والی بلقان کی جنگوں میں چھوڑی گئی قبروں کے بعد یہ یورپ میں پائی جانے والی سب سے بڑی اجتماعی قبر ہوگی۔

یوکرین فوج نے تقریبا دو ہفتے قبل ایزوم کا قبضہ واپس لینے کیلئے حملے شروع کئے تھے۔

یوکرینی فوج نے جنوب کا علاقہ واپس لینے کیلئے بھی بڑے حملے کا آغاز کر دیا ہے۔ وہ دریائے دنیپرو کے مغربی کنارے پر موجود ہزاروں روسی فوجیوں کا محاصرہ اور خیرسون شہر کو بھی واپس لینا چاہتا ہے۔ خیر سون واحد بڑا شہر ہے جو اب روسی قبضہ میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں