کنگ چارلس کی خواب گاہ میں "خلیفہ عباسی" کی تصویر، کہانی کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گذشتہ دنوں شاہ چارلس اور ان کی اہلیہ کو صوفے پر بیٹھے ہوئے ایک بہت بڑی پینٹنگ کے سامنے مسکراتے ہوئے محو گفتگو دکھایا گیا تھا۔ ان کے عقب میں دیوار پر لگی تصویر حلیے سے کسی عرب رہنما کی دکھائی دے رہی ہے۔ اس تصویر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی۔

اس تصویر کو فیس بک پر ہزاروں افراد نے شیئر کیا۔ بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کی تصویر ہے۔

تاہم دوسروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پینٹنگ میں نظر آنے والا محمد علی پاشا ہے جس کا دور (1805-1849) تک ہے۔ اسے جدید مصر کا بانی کہا جاتا ہے۔ یہ تصویر عباسی خلیفہ (754-775) کی نہیں۔

"مملوک قتل عام"

درحقیقت، تلاش اور معائنے سے معلوم ہوا کہ اس پینٹنگ کا عنوان مشہور فرانسیسی مصور اُراس ورنی کی ہے جسے انہوں نے"دی میسکر آف دی میمیلوکس" کا عنوان دیا۔ یہ سنہ 1811 میں جدید مصر کے بانی محمد علی پاشا کی تصویر ہے اور اسے کلیرنس پیلس میں آویزاں کیا گیا تھا۔

ملکہ وکٹوریہ کو نپولین کا تحفہ

پبلیکیشنز کے دعویٰ کے مطابق اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس پینٹنگ کے سامنے کنگ چارلس اور ان کی اہلیہ کو ظاہر کرنے والی تصویر 2018 میں کلیرنس پیلس میں لی گئی تھی، نہ کہ بکنگھم پیلس میں۔

قابل ذکر ہے کہ یہ پینٹنگ ایک ریشم اور اونی کپڑے سے تیار کی گئی ہے جسے اُراس ورنی نے ڈیزائن کیا ہے۔ اس میں "مملوک قتل عام" کی شکل دی گئی ہے، جس میں محمد علی تین افراد میں گھرے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سے ایک دھویں میں ڈوبے شہر قاہرہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

شہنشاہ نپولین سوم نے یہ فن پارہ ملکہ وکٹوریہ کو تحفے میں دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں