سعودی عرب کے طلال خلف کو لاٹھیاں بنانے کا شوق کیسے پیدا ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے علاقے الباحہ کی دھندلی زمین کو تخلیقی لوگوں کی زمین کہا جاتا ہے جہاں آئے روز تخلیقی صلاحیتوں کا کوئی نیا واقعہ سامنے آتا ہے۔ الباحہ کے شہری طلال خلف نے فنون لطیفہ کے ایک منفرد ذریعے کو اپنی پہچان بنایا۔ انہوں نے نہایت اہتمام اور محنت کے ساتھ لاٹھیاں تیار کرنا شروع کیں جنہیں دور دور تک پسند کیا گیا ہے۔

طلال خلف عمار نے 6 سال پہلے اس نئے فن کی تجدید کی اور عصا اور لاٹھیاں تیار کرنا شروع کیں۔

عزت وقار کی علامت

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں نوجوان عمار نے وضاحت کی کہ چھڑی یا "المشعاب" کو خاص طور پر عرب ثقافت کے دائرہ کار میں ایک باوقار مقام حاصل ہے۔ یہ صرف بلاد غامد اور ٖزھران میں ہی پسند نہیں کی جاتی۔ چونکہ لاٹھی کی ایک نسبت بزرگوں کے ساتھ ہوتی ہے، اس لیے اسے بزرگوں کی طرح احترام دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ لاٹھی کو اثر و نفوذ اور طاقت و اختیار کی بھی علامت سمجھا جاتا ہے جب کہ مختلف نوعیت کے کھیلوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بھولے بسرے ورثے میں دلچسپی رکھتےہیں۔ وہ خطاطی سے تعلق کی وجہ سے مجسمہ سازی سے محبت کرتے تھے۔ یہی راستہ المشعاب [لاٹھیوں] میں ان کی دلچسپی کا باعث بنا۔

طلال خلف

انہوں نے بتایا کہ چھوٹی عمر میں ہی میں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ شہد کی مکھیاں پالنے کے پیشے میں مہارت حاصل کی۔ یہ ان کے والد کا پیشہ تھا۔ پھر خود کو ورثے کے ذخیرے کے لیے وقف کر دیا۔

خلف نے وضاحت کی کہ لاٹھیاں عتم کے درختوں کی لکڑی سے تیار کی جاتی ہیں جو اپنی سختی اور لچک کی وجہ سے مشہور ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر لکڑی سیدھی ہوں تو اسے تیار کرنے میں دو گھنٹے لگیں گے، لیکن اگر اس میں زگ زیگ ہوں تو اسے آگ کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے میں سات سے پندرہ دن لگ سکتے ہیں۔

جدید مشینوں کی رفتار کی روشنی میں خلف نے انکشاف کیا کہ وہ روایتی آلات جیسے "کمبی نیشن"، "ماؤس" اور ہینڈ سینڈنگ پر قائم رہنے کے لیے انہیں حاصل کرنے سے قاصر تھے۔ جہاں تک ان کی قیمت کا تعلق ہے تو قیمت کا تعین چھڑی کے سائز سے کیا جاتا سکتا ہے۔ چھڑی کی قیمت 200 ریال 450 ریال تک ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں