سعودی عرب میں افراطِ زرکی شرح اب بھی معقول حد میں ہے:گورنرمرکزی بینک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے مرکزی بینک کےگورنرفہد المبارک نے اتوار کے روزایک کانفرنس میں کہا کہ مملکت میں افراطِ زراب بھی معقول شرح کی حد میں ہے۔

سرکاری اعدادوشمارمیں گذشتہ جمعرات کو بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب کے صارف قیمت انڈیکس (سی پی آئی) میں اگست میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 3 فی صد اضافہ ہوا اور جولائی میں 2.7 فی صد اضافہ ہوا تھا۔

جنرل اتھارٹی برائے شماریات نےایک بیان میں کہا کہ خوراک ،مشروبات کی قیمتیں اورذرائع نقل وحمل کے کرائے ایک بار پھرافراط زرکے اہم محرکات ہیں۔ دونوں میں اگست میں چار فی صد اضافہ ہوا ہے۔ گوشت کی قیمتوں میں 6.7 فی صد اضافہ ہوا۔اس کے نتیجے میں عام کھانوں اورمشروبات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ تمام چیزیں صارفین کی خریدٹوکری کا 18.8 فی صد بنتی ہیں۔

اگست میں قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 0.4 فی صد اضافہ ہوا۔جولائی میں 0.5 فی صد ماہانہ اضافہ ہواتھا۔ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ’’ماہانہ سی پی آئی کھانے اور مشروبات کی قیمتوں میں 0.8 فی صد اضافے سے متاثر ہوا تھا، بنیادی طورپرکھانے کی قیمتوں میں 0.9 فی صد اضافہ ہوا تھا‘‘۔

واضح رہے کہ جولائی 2020 میں،سعودی عرب نے روس کے ساتھ تیل کی قیمتوں کی جنگ اورکوِوڈ 19 کی وبا کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بعض اقدامات متعارف کرائے تھے اورتیل کی عالمی مارکیٹ میں کم قیمتوں سے متاثرہ ملکی مالیاتی امور کو سہارا دینے کے لیے اپنے ہاں نافذ اضافی قدرٹیکس (وی اے ٹی) کو تین گنا بڑھا کر 15 فی صد کردیا تھا۔

گذشتہ سال سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ ویٹ میں اضافے کا فیصلہ ایک تکلیف دہ اقدام ہے جو ایک سے پانچ سال تک جاری رہے گا۔اس کے بعد اس میں پانچ سے دس فی صد تک کمی کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں