امریکا کا حجاب نہ اوڑھنے کی پاداش میں گرفتار ایرانی خاتون کی موت پراحتساب کا مطالبہ

مہسا امینی کے سی ٹی اسکین میں ’شدید صدمے‘کی وجہ سے کھوپڑی میں فریکچرکے آثار: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک گذشتہ ہفتے تہران میں 'نامناسب' حجاب پہننے کے الزام میں گرفتار ہونے والی ایک ایرانی خاتون کی موت کی جواب دہی چاہتا ہے اور اس نے اس واقعہ کے ذمے داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ’نامناسب‘ حجاب پہننے پر پولیس کی تحویل میں رہنے کے بعد مہسا امینی کی موت انسانی حقوق کی خوف ناک اور شدید تذلیل ہے۔ ہم غم کی اس گھڑی میں مہسا کے اہل خانہ اور پیاروں کے ساتھ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایران میں خواتین کوتشدد یا ہراسیت سے بے خوف ہوکر اپنی پسند کا لباس پہننے کا حق ہونا چاہیے اورایران کو خواتین کے خلاف محض بنیادی آزادیوں کے استعمال کی پاداش میں تشدد کا استعمال ختم کرناہوگا۔مہسا کی موت کا احتساب ہونا چاہیے۔

کھوپڑی میں فریکچر

دریں اثناء لندن میں قائم ایک خبررساں ادارے نے بتایاہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے تہران میں پولیس کی تحویل میں ہلاک ہونے والی 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی کھوپڑی کا سی ٹی اسکین حاصل کیا ہے اور اس میں ہڈیوں کا فریکچر، ہیمرج اور دماغی ایڈیما ظاہرکیا گیا ہے۔

سیٹلائٹ نیوزچینل ایران انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اس نے طبی دستاویزات ایک ہیکٹیوسٹ گروپ کے ذریعے حاصل کی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’’ شدید صدمے کی وجہ سے مہسا کے سر کے دائیں جانب کھوپڑی کا فریکچرواضح طور پر ظاہرہوتا ہے جو اہل خانہ اور ڈاکٹروں کے متوفیہ کے سر پرکئی بار چوٹیں لگنے کے بارے میں پہلے کے بیانات کی تصدیق کرتا ہے‘‘۔

رپورٹ کے مطابق ’’متوفیہ کے سینے کی تصاویر میں دوطرفہ ڈفیوزالویلر ہیمرج اورنمونیے، رطوبات برقرار رکھنے اور سپرمپوزڈ انفیکشن کی وجہ سے نقصان دکھایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج دماغ کے صدمے کی وجہ سے شدیدسانس کی تکلیف کے سینڈروم سے مطابقت رکھتے ہیں‘‘۔

مہسا امینی کوگذشتہ منگل کے روز تہران میں نامناسب حجاب پرگشتی اخلاقی پولیس نے حراست میں لیا تھا اور وہ اس کے کچھ ہی دیر بعد کوما میں چلی گئی تھیں۔انھیں ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ گذشتہ جمعہ کو دم توڑ گئی تھیں۔

تہران پولیس کا کہنا ہے کہ امینی کو حراست کے دوران میں اچانک دل کا عارضہ لاحق ہو گیا تھا اور سرکاری ذرائع ابلاغ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ گرفتاری سے قبل وہ صحت کے متعدد مسائل کا شکار تھیں۔

لیکن امینی کے والدین نے اس مؤقف کو مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے سے پہلے ان کی بیٹی کو صحت کا کوئی عارضہ لاحق نہیں تھا۔انسانی حقوق کے بعض سرگرم کارکنوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ حراست کے دوران میں مہسا کی پٹائی کی گئی تھی جس سے انھیں شدید چوٹیں آئیں اور ان ہی زخموں کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں