ایران:خاتون کی ہلاکت پراحتجاج میں شِدّت،مظاہرین کی پولیس کی گاڑی الٹنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے دارالحکومت تہران میں پولیس کی تحویل میں ایک نوجوان خاتون کی ہلاکت سے شروع ہونے والے مظاہرے ملک کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گئے ہیں۔مظاہرین نے پیر کے روز دارالحکومت میں پولیس کی ایک گاڑی کو الٹنے کی کوشش کی ہے۔

ایران کے ایک ٹویٹراکاؤنٹ @1500tasvir سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ تہران میں مظاہرین ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کے ساتھ پولیس کی گاڑی کو الٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔

تہران ہی میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی توپ کے استعمال کی بھی ایک ویڈیو منظرعام پرآئی ہے۔ بعض مظاہرین اس گاڑی کی جانب پتھراؤ کررہے ہیں۔مظاہرین ٹویٹر پرجاری کردہ ایک اورویڈیو میں یہ نعرے بازی کررہے ہیں:’’ہم لڑیں گے،ہم مریں گے، ایران کو واپس لے جائیں گے‘‘۔

ٹویٹرپرشیئر کی جانے والی دیگر ویڈیوز میں شمالی شہر راشت اور شمال مشرقی شہرمشہد سمیت ایران کے دیگر علاقوں میں بھی پولیس تحویل میں نوجوان دوشیزہ کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے کیے جارہے ہیں اوریہ احتجاج ملک کے دوردراز شہروں تک پھیل گیا ہے۔

العربیہ آزادانہ طور پران ویڈیوز کی صداقت کی تصدیق نہیں کرسکا۔اس سے قبل آج ایران کے صوبہ کردستان کے شہر دیواندریہ میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق دیواندریہ میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی ہے۔

یہ مظاہرے جمعہ کے روز 22 سالہ کرد ایرانی خاتون مہسا امینی کی پولیس کے زیرحراست پُراسرار موت کے خلاف شروع ہوئے تھے۔ مہسا امینی کوتہران میں نامناسب حجاب پرگشتی اخلاقی پولیس نے حراست میں لیا تھا اور وہ اس کے کچھ ہی دیر بعد کوما میں چلی گئی تھیں۔

ایران کی سرکاری جامعہ علامہ طباطبائی میں طلبہ کردخاتون مہساامینی کی پولیس حراست میں موت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔
ایران کی سرکاری جامعہ علامہ طباطبائی میں طلبہ کردخاتون مہساامینی کی پولیس حراست میں موت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

تہران پولیس کا کہنا ہے کہ امینی کو حراست کے دوران میں اچانک دل کا عارضہ لاحق ہو گیا تھا اور سرکاری ذرائع ابلاغ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ گرفتاری سے قبل وہ صحت کے متعدد مسائل کا شکار تھیں۔

لیکن امینی کے والدین نے اس مؤقف کو مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے سے پہلے ان کی بیٹی کو صحت کا کوئی عارضہ لاحق نہیں تھا۔انسانی حقوق کے بعض سرگرم کارکنوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ حراست کے دوران میں مہسا کی پٹائی کی گئی تھی جس سے انھیں شدید چوٹیں آئیں اور ان ہی زخموں کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ ایران میں خواتین کے لیے حجاب کو 1979 کے انقلاب کے فوری بعد لازمی قراردیا گیا تھا۔ایران کے مذہبی حکمرانوں کے لیے اس کو سرخ لکیر سمجھاجاتا ہے۔اگر خواتین عوامی مقامات پر سخت ضابطہ لباس کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوتی ہیں تو ایران کی اخلاقی پولیس المعروف گشت ارشاد کے کارندے انھیں ہراساں کرتے اور گرفتارکرکے تھانے لے جاتے ہیں۔

ایران میں نافذالعمل ضابط لباس کے تحت خواتین کو اپنے سرکے بالوں کو عوامی سطح پر مکمل طور پر ڈھانپنا اور لمبے، ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننا ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں