ملکہ الزبتھ کی تدفین صدی کا جنازہ،مہمانوں کی تعداداورپیچیدہ ترین تقریبات کےاعدادوشمار

عصری برطانوی تاریخ کا سب سے بڑا سکیورٹی آپریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

پیر کے روز آنجہانی ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات کی تیاریوں میں سکیورٹی معاملات بھی شامل ہیں ۔ اس کو برطانوی عصری تاریخ کا سب سے بڑا سکیورٹی آپریشن کہا جا سکتا ہے۔ ملکہ کی آخری رسومات میں مہمانوں کی بڑی تعداد میں شرکت اور دس روز پر محیط آخری رسومات کی پیچدہ ترین تقریبات کو اعداد و شمار کے آئینہ میں بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔

لندن میں اتنی بڑی تقریب غیر معمولی سکیورٹی چیلنج تھی۔ آج پیر کے روز یہ شاہی جنازہ جسے استعاراتی طور پر صدی کا جنازہ کہا جارہا ہے میں لندن کی سڑکوں پر لاکھوں افراد شریک ہو رہے۔ اس تقریب میں ملکہ کے جسد خاکی کے ساتھ دنیا بھر سے آئے لاکھوں افراد امڈ پڑے ہی ۔ دس روزہ آخری رسومات کے دوران ملکہ کے آخری دیدار کیلئے لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔

تدفین اعداد و شمار کی زبان میں

ویسٹ منسٹر کے ہال میں سرکاری طور پر آخری رسومات میں شرکت کیلئے آنے والے معزز اور اعلی شخصیات کی تعداد 2000 ہے۔ ان شخصیات میں شاہ چارلس سوم اور شاہی خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ عالمی رہنما بھی ہیں۔ ان عالمی شخصیات میں امریکی صدر بائیڈن، امریکی خاتون اول جل بائیڈن بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اتوار کو ویسٹ منسٹر ہال میں برطانوی ملکہ کے تابوت کو الوداع بھی کیا۔ تقریب کے آخر میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ ونڈسر محل کے سینٹ جارج چیپل میں ہونے والی تقریب میں 800 مہمان شرکت کر رہے ۔

5949 فوجی اہلکار اس تقریب کے دوران مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے ہیں۔ آخری رسومات 8 ستمبر کو ملکہ کی وفات پر سکاٹ لینڈ کے علاقے بالمور میں ملکہ کی موت سے شروع ہوئی تھیں جس میں فوجی اہلکاروں کی یہ تعداد موجود رہی۔

ان فوجیوں میں 4416 بری، 847 بحری اور 686 فضائی افواج کے اہلکار شامل ہیں ۔ دولت مشترکہ ممالک کی افواج کے 175 اہلکاروں نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

ملکہ کے تابوت کو ویسٹ منسٹر سے ولنگٹن آرچ تک لے جانے کی پر وقار تقریب میں 1650 فوجی شریک ہونگے۔ تابوت ونڈسر پہنچے گا تو مزید ایک ہزار اہلکار جلوس کے راستے میں سڑکوں پر تعینات ہونگے اور 410 جلوس میں شریک ہونگے۔ 480 سڑکوں پر لگی قطاروں میں شامل ہونگے۔ 150 اہلکار آنر گارڈ میں شامل اور 130 اہلکار دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔

اس دوران 10 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار "انتہائی پیچیدہ" پولیسنگ کا کام انجام دیں گے یہ پیچیدہ آپریشن لندن پولیس کی تاریخ میں سب سے بڑا آپریشن ہے۔ پولیس کی اتنی بڑی تعداد 2012 کے لندن اولمپکس میں بھی استعمال میں نہیں لائی گئی تھی۔

لندن کے ٹرانسپورٹ حکام کے مطابق پیر کے روز 10 لاکھ افراد کے لندن میں آنے کی توقع ہے۔ اس موقع پر 250 اضافی ٹرینیں لوگوں کی سفر کی سہولت فراہم کرنے کیلئے چلائی جائیں گی۔

ویسٹ منسٹر ہال میں ملکہ کے تابوت کے سامنے صف بند ہونے والی قطار کی طوالت 8 کلومیٹر رہی۔ یہ قطار دریائے ٹیمز سے لیکر ساؤتھ وارک پارک تک پھیلی ہوئی تھی۔

اس جنازے کو براہ راست نشر کرنے کے لیے 125 سینما گھر کھولے جا رہے۔

ملکہ کے تابوت پر موجود شاہی ریاست کے تاج میں 2868 ہیرے جڑے ہوئے ہیں جن میں 17 یاقوت، 11 زمرد اور 269 موتی شامل ہیں۔

بیٹے کی محبت

دنیا بھر کے عالمی سربراہوں اور شخصیات کے ساتھ ساتھ ملکہ کے بیٹے، بیٹیاں، پوتے اور نواسے بھی الوداع کہنے کیلئے موجود ہونگے۔ ملکہ کے دوسرے بیٹے شہزادہ اینڈریو نے اتوار کو اپنی والدہ سے اظہار محبت کیا اور کہا ماں، میری ماں، آپ عظیم تھیں۔ انہوں نے کہا ماں میں اپنے لئے کیلئے آپ کی محبت، آپ کی شفقت، آپ کی دیکھ بھال اور آپ کے بھروسے کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔

خیال رہے اینڈریو ملکہ کے بگڑے ہوئے بیٹے کے طور پر مشہور تھے۔ ان سے شاہی ’’ عزت ماٰب‘‘ کا خطاب اس وقت چھین لیا گیا تھا جب ان امریکی جیفری ایپسٹن سے زیادتی کے الزامات کے سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد ان پر شاہی خدمات انجام دینے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

میڈیا ذرائع کے مطابق ان پر اس مجرمانہ فعل کی فرد جرم عائد نہیں ہوئی تھی لیکن انہوں نے مقدمہ طے کرنے کیلئے رقم ادا کی تھی۔

ہفتہ کی شام تقریب میں ملکہ کی دوبیٹیاں اور ان کے چھ پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں بھی موجود تھے۔ چارلس کے بیٹے ولیم اور ہیری بھی موجود تھے۔ ان سب نے تابوت کے سامنے خاموشی اخییار کی تھی۔

نئے بادشاہ چارلس کی اہلیہ کملا نے اتوار کو شائع ملکہ کے نام خط میں کہا ملکہ کی مسکراہٹ ناقابل فراموش تھی۔

ہجوم کا شکوہ

ملکہ کی پیر کو تدفین سے قبل ہی لاکھوں افراد لندن کی سڑکوں اور پارکوں میں امڈ آئے ہیں۔ سوگواروں کی جانب سے ملکہ کیلئے رکھے گئے پھولوں کو دیکھنے کیلئے بے تاب لوگوں میں غم و غصہ بھی دیکھا گیا۔ لوگ اس حوالے سے شکایات کرتے دکھائے دئیے ۔

حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ تابوت پر الوداعی نظر ڈالنے کے لیے قطاروں میں شامل ہونے کے لیے سفر نہ کریں کیونکہ اتوار کے روز داخلے سے انکار کردیا جائے گا۔

ملکہ کو پر وقار انداز میں رخصت کرنے کیلئے تابوت کے سامنے چند لمحے خاموش کھڑے ہونے کیلئے لاکھوں افراد نے دریائے ٹیمز کے کنارے صبر کے ساتھ انتظار کیا۔

قطار میں کھڑے بہت سے لوگ رو رہے تھے اور دعائیں مانگ رہے تھے۔ کچھ افراد نے سرجھکایا ہوا تھا، اس موقع پر کئی افراد تو گھٹنوں کے بل گر گئے۔

اس موقع پر اہم عالمی شخصیات نے بالکونی میں کھڑے ہوکر خاموشی اختیار کی۔ لندن سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ گیری تھامسن نے بتایا میں شدید حیران تھا کہ یہاں کتنے لوگ آگئے ہیں یہ واقعی ناقابل یقین تھا۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا ’’مکمل خاموشی" ایک ایسی چیز تھی جن نے ملکہ کو الوداع کہنے کے عمل کو دل کش بنا دیا۔ انہوں نے جمعہ کے روز ملکہ کے تابوت کے قریب گزارے گئے اپنے خاموشی کے لمحات کےمتعلق لوگوں کو بتایا اور کہا اس لمحوں کی خاموشی کیلئے لوگوں نے 20 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ قطار میں کھڑے ہوکر انتظار کیا ہے۔

شہزادہ ولیم نے ہفتے کے روز قطار میں کھڑے سوگواروں سے خطاب کیا۔ وہ اپنے والد چارلس کے ساتھ حاضر ہوئے۔ انہوں نے کہا آپ اس سب پر یقین نہیں کریں گے ۔ یہ واقعی حیرت انگیز ہے۔

خاموشی کا لمحہ

ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد برطانیہ نے دس دنوں تک ترتیب سے تیار واقعات کی میزبانی کی ہے۔ آخری رسومات کا یہ انداز برطانوی شاہی خاندان کی ایک ہزار سال روایات کی عکاسی کرتا ہے۔

اتوار کو جی ایم ٹی وقت کے مطابق شام ساتھ بجے ویسٹ منسٹر ہال کے اوپر بگ بین کی آواز کے ساتھ ہی ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

لندن پولیس نے جنازے کو اب تک کا سب سے بڑا سیکورٹی آپریشن قرار دے دیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس نے اپنے اہلکاروں کو جلوسں کے راستوں اور ویسٹ منسٹر ایبے کے قریب اہم مقامات پر تعینات کیا ہے ۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں 1066 میں ولیم اول کے دور سے لیکر اب تک برطانوی بادشاہوں اور ملکہ کی تاجپوشی کی گئی، شاہی شخصیات کی شادیاں ہوئیں اور ان کی تدفین کی گئی۔

یاد رہے 1965میں سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل کی موت کے بعد سے برطانیہ نے اتنے بڑے پیمانے پر کسی سرکاری جنازے کا انتظام نہیں کیا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں