.

ایرانی حکام کا تہران میں مظاہروں کے دوران میں غیر ملکی شہریوں کی گرفتاری کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران کے گورنر نے کہا ہے کہ شہرمیں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران میں متعدد غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔انھوں نے غیرملکی انٹیلی جنس سروسز پر ملک میں جاری بدامنی میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے محسن منصوری کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کے روز تہران میں ہونے والے مظاہروں کے دوران میں حراست میں لیے گئے افراد میں ’’بیرونی ممالک کے کچھ شہری‘‘بھی شامل ہیں۔

منصوری نے یہ واضح نہیں کیا کہ کل کتنے غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔انھوں نے کچھ غیر ملکی سفارت خانوں اور انٹیلی جنس سروسز پر تہران میں بدامنی میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’کچھ غیر ملکی سفارت خانوں اور [انٹیلی جنس خدمات کی طرف سے مداخلت کے نشانات واضح طور پر نظر آتے ہیں‘‘۔

گشتہ جمعہ کو 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کو مردہ قرار دیے جانے کے بعد سے ایران بھر میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ امینی کو 13 ستمبر کو تہران میں اخلاقی پولیس نے حکومت کے سخت حجاب قوانین پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا تھا۔ وہ اخلاقی پولیس کے زیرحراست جانے کے کچھ ہی دیر بعد کوما میں چلی گئی تھیں۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ امینی کو حراست کے دوران میں پولیس اہلکاروں نے مارا پیٹا تھا۔اس سے وہ شدید زخمی ہو گئی تھیں جس سے ان کی موت واقع ہو گئی تھی مگر پولیس ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

مہسا کی پولیس کی تحویل میں پراسرارحالات میں موت پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور بعض علاقوں میں پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج سے پتا چلتا ہے کہ منگل کو بھی کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔

قبل ازیں سوموار کی شب حکومت مخالف مظاہروں نے تشدد کا رُخ اختیار کرلیا تھا اورسکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک اورکم سے کم بیس زخمی ہوگئے تھے۔ایرانی حکام نے ان میں تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں