روس اور یوکرین

روسی بحری بیڑے نے اپنی کچھ آبدوزیں کریمیا سے منتقل کر دیں:برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کی افواج کے خلاف ملک کے مشرق اور جنوب میں یوکرین کے حملوں میں حالیہ اضافے کے بعد ماسکو نے بحیرہ اسود میں اپنے بحری جہازوں کو منتقل کرنا شروع کر دیا۔

منگل کے روز برطانوی فوج نے دعویٰ کیا کہ روسی بحیرہ اسود کے بحری بیڑے نے اپنی کچھ آبدوزوں کو کریمیا میں سیواستوپول کی بندرگاہ سے جنوبی روس میں کراسنوڈور کرائی کے نووروسیسک منتقل کر دیا ہے۔

جارحانہ صلاحیت میں اضافہ

وزارت دفاع نے ٹویٹر پر روزانہ کی انٹیلی جنس اپڈیٹ میں کہا ہے کہ منتقلی کا امکان کیف کی طویل فاصلے تک جارحانہ صلاحیت میں اضافے کے پیش نظر ملکی سلامتی کے خطرے کی سطح میں حالیہ تبدیلی کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔

وزارت نے مزید کہا کہ گذشتہ دو مہینوں کے دوران بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور اس کے اہم بحری ہوابازی کے اڈے کو کئی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

خاطر کی بنیاد

گذشتہ ماہ کریمیا میں ساکی ایئر بیس کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کی وجہ سے روسی بحری بیڑے کے نصف سے زائد جنگی طیاروں کو سروس سے ہٹانا پڑا تھا۔اس کے بعد روسی وزارت دفاع نے بیڑے کے کمانڈر کو برطرف کر کے ان کے متبادل کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔

جبکہ سیواستوپول میں ماسکو کے حامی ایک اہلکار نے اس وقت تصدیق کی تھی کہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔

تاہم نقصان کی حد سے قطع نظران حملوں نے یوکرینی افواج کی ایک خاص حد تک طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ ثابت کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں