شام کی سرحد پرفائرنگ کرنے والے مشتبہ افرادکے تعاقب میں اسرائیلی فوجی سرحد کےاندر داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ کل پیر کو اسرائیلی فورسز نے سرحد عبور کر کے شام میں داخل ہو کر چار افراد کو گولی مار دی جنہوں نے "سرحد کی باڑ پر پروجیکٹائل پھینکے۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔

اگرچہ اسرائیل اکثر شامی سرزمین کے اندر فضائی حملے کرتا ہے، لیکن وہ شاذ و نادر ہی عوامی سطح پر سرحد پار کارروائیوں کو تسلیم کرتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں میں خسفین کے قریب خفیہ فوجیوں نے چار مشتبہ افراد کو دیکھا۔ ان افراد نے کچھ گولے داغے تاہم اسرائیلی فوج نے ان گولوں کی نوعیت واضح نہیں کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سپاہیوں کو اس مقام پر بھیجا گیا جہاں انہوں نے سرحد عبور کی اور ایک مشتبہ شخص کی ٹانگوں میں گولی مار کرزخمی کردیا۔

فوج نے بتایا کہ زخمی مشتبہ شخص، جس کی طبی حالت کا پتا نہیں چلا کو اسپتال لے جایا گیا ہے جب کہ باقی تین کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں ملیں۔

اسرائیل شام کے اندر اپنی فوجی کارروائیوں پر شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتا ہے، سوائے ان کے جو براہ راست ردعمل ہیں جسے وہ اسرائیل کی خودمختاری کے لیے براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔

لیکن اسرائیل نے 2011 میں ملک میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سیکڑوں فضائی حملے کرنے کا اعتراف کیا ہے، جس میں شامی حکومت اور ایرانی حمایت یافتہ افواج سے تعلق رکھنے والے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ میں گولان کی پہاڑیوں کے دو تہائی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں