.

فلسطینی حکومت کا اخراجات میں کمی کیلئے ’’جلد ریٹائرمنٹ‘‘ فارمولا اپنانے کا فیصلہ

دو مرحلوں میں اختیاری اور جبری ریٹائرمنٹ کی جائے گی، حکومتی بڑوں میں اختلافات برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی نے اپنے اخراجات میں کمی لانے کیلئے ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ کا فارمولا اپنانے کا فیصلہ کرلیا۔ حکومت میں طاقت کے مراکز کے درمیان اختلافات کی بنا پر ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ اختیاری اور جبری دو مراحل میں مکمل ہوگی۔ حکومت پر مستحکم مالیاتی نظام قائم کرنے کا دباؤ بڑھتا جارہا اس مالیاتی استحکام کو حاصل کرنے کیلئے انتظامی اصلاحات کا سہارا لیا جائے گا۔

لاکھوں ملازمین کو فارغ کرنے کی یہ کوشش وزیر خزانہ شکری بشارہ کر رہے ہیں۔

دو روز قبل ہی ورلڈ بنک نے اپنی رپورٹ میں فلسطینی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پائیدار عوامی مالیات کے حصول کیلئے آمدنی اور اخراجات دونوں پہلوؤں میں اصلاحات کرے۔ یعنی آمدنی بڑھائی جائے اور اخراجات کو کم کیا جائے۔

فلسطینی خزانے کی سب سے بڑی مدد گار یورپی یونین نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی حکومت انتظامی اصلاحات کے ذریعہ تنخواہوں کے بل میں کمی کے اپنے وعدوں کو پورا کرے۔

فلسطینی وزیر خزانہ شکری بشارہ نے گزشتہ مئی میں عالمی ڈونرز کی ایک کانفرنس میں عہد کیا تھا کہ آنے والے برسوں میں تنخواہوں کے بل کو محصولات کی مالیت کے 100 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد تک لایا جائے گا۔

اب فلسطینی اتھارٹی نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی میں بہت سے ملازمین کی پہلے مرحلے میں اختیاری ریٹائرمنٹ اور دوسرے مرحلے میں اجباری ریٹائرمنٹ کا نظام تشکیل دے گی۔

بشارہ نے کہا پہلے مرحلہ سے تنخواہوں کے بل کو آمدن کے 70 فیصد تک لایا جائے گا اور دوسرے مرحلہ سے اسے آمدن کے 50 فیصد تک لے آیا جائے گا اور یہ ہدف 2023 کی پہلے سہ ماہی میں حاصل کرلیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے تنخواہ کے بل کو حکیمانہ تناسب اور دستیاب وسائل کے اندر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ کے خلاف مزاحمت کرنے والوں سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رضا کارانہ ریٹائرمنٹ کے لیے ممکنہ ترغیبات اور مالی مدد کو بھی استعمال کیا جائے گا۔

دوسری طرف فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے ملازمین کو ریٹائر کرنے کی اس پالیسی کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے۔

تاہم وزیر خزانہ نے کہا کہ ایسا نہ کیا گیا تو فلسطین کا مالیاتی اور انتظامی نظام ایسے خطرات سے دو چار ہوجائے گا جہاں اصلاحات لانا ناممکن ہو جائے گا۔ جبری ریٹائرمنٹ کی پالیسی پر عمل نہ کیا گیا تو ملک موثر سرمایہ کاری سے بھی محروم ہوتا جائے گا۔ حکومت کا مقصد کام کی سستی کا مقابلہ کرنا اور بغیر کام کے ملازمین کے رجحان کو ختم کرنا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے پبلک سیکٹر میں انتظامی اصلاحات کے لیے ایک قومی کمیٹی تشکیل دی ہے سال کے آخر تک اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

ریٹائرمنٹ اتھارٹی کے ایک سینئر اہلکار نے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی استدعا پر بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے متعلق قائم مجاز کمیٹی ریٹائرمنٹ کی تنخواہ کی شرح کا تعین کرنے کیلئے حتمی سفارشات نہیں پہنچی ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں