.
روس اور یوکرین

ماسکونوازعلاحدگی پسندوں کاروس میں شمولیت کے لیے دونباس میں ریفرینڈم کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین کے مشرقی خطے دونباس میں ماسکو کے حمایت یافتہ علاحدگی پسندوں اوریوکرین کے روسی فوج کے زیرقبضہ علاقے کھیرسن میں کریملن کے حامی حکام نے روس میں شمولیت کے لیے ریفرینڈم کرانے کا اعلان کیا ہے۔

حکام کے مطابق دونوں علاقوں میں 23 سے 27 ستمبر تک روس کا حصہ بننے کے لیے ریفرینڈم منعقد ہوگا۔واضح رہے کہ فروری میں یوکرین میں فوج بھیجنے سے کچھ دیرقبل روسی صدر ولادی میرپوتین نے خود ساختہ دونیتسک اور لوگانسک جمہوریہ کو آزاد تسلیم کیا تھا۔

یوکرین میں روس کی جارحیت کےابتدائی دنوں میں ماسکو کے فوجیوں نے جنوبی علاقے کھیرسن میں بھی ووٹنگ کا انعقاد کیا تھا۔روس میں ان کا انضمام یوکرین میں جاری مسلح تنازع میں مزید شدت کا سبب بنے گا کیونکہ ماسکو یہ کہنے کے قابل ہوگا کہ وہ یوکرین کی افواج کی جارحیت سے اپنے علاقے کا دفاع کررہا ہے۔

علاحدگی پسندعہدہ دارڈینس میروشنیچینکو نے لوگانسک نیوز پورٹل کوبتایا کہ عوامی کونسل نے کھیرسن میں ریفرینڈم کے دن 23 ستمبر سے 27 ستمبر تک مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔

اس کے کچھ ہی دیر بعد دونیتسک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اعلان کیا کہ اسی تاریخ کو دونباس میں بھی ریفرینڈم کرایا جائے گا۔

ایک الگ بیان میں دونیتسک باغی گروپ کے رہنما ڈینس پشیلن نے صدرولادی میرپوتین پرزوردیا ہے کہ وہ اس خطے کو جلد سے جلد روس کا حصہ بنانے پر غورکریں۔

پشیلن نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’’دونباس کے طویل عرصے سے مصائب کا شکار لوگ اس عظیم ملک کا حصہ بننے کے مستحق ہیں، جسے انھوں نے ہمیشہ اپنا مادرِوطن سمجھا ہے‘‘۔

ماسکو کے مقرر کردہ اس خطے کے سربراہ ولادی میرسالدو نے ستمبر کے اسی ہفتے میں ریفرینڈم کا اعلان کیا ہے اورایک بیان میں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ کھیرسن خطے کے روسی فیڈریشن میں داخلے سے ہمارا علاقہ محفوظ ہو جائے گا اور تاریخی انصاف بحال ہو جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ یوکرین اورنیٹو کے رکن ممالک کی مسلح افواج کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کی کارروائیوں کے باوجود یہ ایک ضروری فیصلہ ہے۔نیٹو ممالک ہماری سرزمین پر شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہتھیار مہیا کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ دونباس کے صنعتی علاقے کے بڑے حصے پر 2014ء سے ماسکو کے حمایت یافتہ علاحدگی پسندوں کا کنٹرول ہے۔تب ملک گیر مظاہروں کے بعد یوکرین کے کریملن نوازصدر کو معزول کردیا گیا تھا۔

اس وقت روس نے یوکرین کے علاقے جزیرہ نما کریمیا کو پارلیمان میں رائے شماری کے بعد ضم کر لیا تھا۔روس کے اس اقدام پریوکرین اورمغرب نے تنقید کی تھی اور اس کے ردعمل میں مغربی ممالک نے روس کے خلاف پابندیاں عاید کردی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں