.

روس سے رہائی پانے والے دوامریکیوں سمیت 10 جنگی قیدیوں کی سعودی عرب آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ثالثی کی کامیاب کوششوں کے بعد روس، یوکرین جنگ کے 10 قیدیوں کورہا کردیا گیا ہے۔انھیں روس سے لے کر ایک طیارہ بدھ کودارالحکومت الریاض پہنچ گیا ہے۔

سعودی ولی عہد ان قیدیوں کی رہائی کے لیے کریملن اور یوکرین کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھے۔ان کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں قیدیوں کی رہائی کا سمجھوتا طے پایا ہے۔ اسکے تحت پانچ برطانوی شہریوں ، ایک مراکشی ، ایک سویڈش ، ایک کروٹ اور دو امریکیوں کی رہائی عمل میں آئی ہے۔

ان غیرملکیوں کو یوکرین کے علاحدگی پسند علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران میں گرفتارکیا گیا تھا۔سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اب انھیں ان کے آبائی ممالک میں منتقل کردیا جائے گا۔برطانوی وزیراعظم لیزٹرس نے اپنے پانچ شہریوں کی رہائی میں معاونت پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا ہے اور روس سے یوکرین میں جارحانہ فوجی کارروائی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کے علاوہ 200روسیوں کے تبادلے میں 50 یوکرینی قیدیوں کی رہائی یقینی بنانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق ان قیدیوں میں روسی صدرولادی میرپوتین کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک وکٹرمیدویدچک بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ میدویدچک کواپریل میں یوکرینی باشندوں نے گرفتار کرلیا تھا۔

یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا بدھ کے روز قیدیوں کی رہائی اس مخصوص معاہدے کا حصہ تھی یا نہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں، یوکرین نے روسی فوج کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز کیا ہے اور یوکرین کے شمال مشرق اور جنوب میں روس کے زیرقبضہ بعض علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ان میں ازیم اور کوپیانسک کے قصبے اور خرکیف کے آس پاس کے قصبے شامل ہیں۔

دریں اثناء صدرپوتین نے دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ جزوی طور پرتمام روسی فوج کومتحرک ہونے کا حکم دیا ہے۔روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے کہا ہے کہ دفاع وطن کے لیے 300،000 فاضل دستوں کو بلایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں