یمنی صدر کا اقوام متحدہ میں ایرانی صدرابراہیم رئیسی کے خطاب کا بائیکاٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کے ڈاکٹررشادالعلیمی نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کی ایک نشست کا بائیکاٹ کیا ہے۔اس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے تقریر کی تھی اور صدررشاد نے اس کا یمن اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے منافی تہران کی غیر مستحکم ،دوسری مداخلتوں اور حوثی باغیوں کی حمایت کے خلاف احتجاج میں بائیکاٹ کیا۔

البتہ یمنی صدر العلیمی نے بعد میں اس اجلاس میں شمولیت اختیار کی جب ایرانی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے خطاب کرکے چلے گئے۔جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس منگل کوشروع ہوا جس میں دنیا بھرسے سربراہان مملکت، حکومت اور اعلیٰ حکام کی شرکت کررہے ہیں۔

یمنی حکومت ایران پر الزام عاید کرتی ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کو مادی، لاجسٹک اور سیاسی مدد مہیاکر رہا ہے۔انھیں بیلسٹک میزائل اور ڈرون سمیت جدید عسکری صلاحیتیں مہیا کر رہا ہے تاکہ پڑوسی ممالک کی سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کیا جا سکے اور بحیرہ احمر میں بین الاقوامی نیویگیشن کو خطرہ لاحق ہو سکے۔

حالیہ برسوں کے دوران حوثی ملیشیا نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں اہم اقتصادی تنصیبات اور شہری املاک کے علاوہ سرکاری فورسز کےٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا ایک سلسلہ اپنایا ہے، جسے یمنی حکومت اور اس کے اتحادی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی مدد قرار دیتے ہیں۔

یمنی حکومت نے ایرانی حکومت کی پالیسیوں اور اس کی پراکسی جنگوں کو منظم کرنے اور فرقہ وار"چھاؤنیاں" بنانے کے لیے فرقہ وار ملیشیا کے استعمال پر تنقید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں