.
روس اور یوکرین

یوکرین کے خلاف لڑائی ، دس ہزار روسی رضاکار لڑنے کے لیے آگئے ۔ ترجمان روسی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کے روز دس ہزار شہریوں نے یوکرین کے خلاف لڑنے کے لیے خود کو رضا کارانہ پیش کیا ہے۔ یہ دس ہزار کی تعداد روسی صدر ولادی میر پوٹن کے اس اعلان کے تقریبا 24 گھنٹے کے دوران سامنے آئے ہیں جو انہوں نے ریزرو فورس کو یوکرین کے لیے متحرک کرنے کے سلسلے میں کیا تھا۔

فوجی ترجمان کے مطابق یہ جزوی موبلائیزیشن کا پہلا دن ہے ، جب شہری فوجی مراکز کے باہر خود ہی پہنچنا شروع ہو گئے، کہ انہیں یوکرین میں لڑنے کے لیے بھیجا جائے۔ ترجمان ولادی تسملیانسکی کے حوالے سے انٹر فیکس نیوز ایجنسی کے مطابق یہ فوج کی جانب سے یہ کسی باقاعدہ اعلان عام کے بغیر رضاکار پہنچے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا ' فوج نے اس سلسلے میں اب ایک کال سنٹر قائم کر دیا ہے تاکہ جو لوگ اس بارے میں معلومات چاہتے ہوں انہیں فون پر ہی ان کی ضرورت کی معلومات مل سکیں۔

واضح رہے ان رضاکاروں کے حوالے سے ٹی وی ٖفوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس میں کچھ روسی شہری اپنے عزیز و اقارب کو روتے ہوئے ملتے دکھائے گئے ہیں کہ وہ لڑنے کے لیے فوج کے ساتھ جا رہے ہیں۔ کچھ بسوں میں سوار ہوتے دکھائے گئے ہیں۔

ایک فوٹیج میں لوگوں کی بڑی تعداد ہے جن میں کچھ جہاز پر سوار ہونے کے لیے کھڑے ہیں۔ ایک اور منظر میں دیکھا جا سکتا ہے چیچنیا کے علاقے کے نوجوان پولیس کی موجودگی میں ریکروٹمنٹ آفس کے قریب جمع ہیں۔ تاہم اس فوٹیج کی آزاد ذرائع سے ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ نہ ہی اس بارے میں وزارت دفاع نے کوئی باضابطہ فوٹیج جاری کی ہے۔

خیال رہے ولادی میر پوتین کے اعلان کے بعد کہ ریزروز کو متحرک کیا جارہا ہے۔ روسی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ہم تین لاکھ افراد کو اس سلسے میں بلائیں جو ریزروز کے طور پر لڑائی میں حصہ لیں گے۔ اسی دوران 1300 سے زائد افراد کو ریزروز کو لڑائی میں بھیجنے کے اعلان کے خلاف احتجاج کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں