جرمن چانسلرشلزکی توانائی میں شراکت داری کے امکان پرسعودی ولی عہد سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرمن چانسلراولف شُلز نے اس امید کا اظہارکیا ہے کہ یوکرین پر حملے کے نتیجے میں روس سے تیل اور گیس کی رسد میں کمی کے بعد قدرتی وسائل سے مالا مال خلیجی ریاستوں کے ساتھ توانائی کی نئی شراکت داری پراتفاق ہوجائے گا۔

انھوں نے یہ بات ہفتے کے روز جدہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد کہی ہے۔ شلزنے کہا کہ انھوں نے یوکرین میں جنگ کے موضوع پر بات چیت کی ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ یوکرین کی اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کی جنگ میں حمایت کرنا ہمارے لیے ناگزیر ہے،ہم ایسا کرتے رہیں گے اور روس کویوکرین اپنی فوجیں واپس بلانا ہوں گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سعودی عرب فوسیل ایندھن کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے اورعلاقائی طاقت کے طور پر سعودی عرب کی اپنی اہمیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی اور دیگر ممالک کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ’’ٹھوس ورکنگ ریلیشن شپ‘‘کی ضرورت ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ برلن قابل تجدید توانائی کا استعمال کرتے ہوئے تیار کی جانے والی سبز ہائیڈروجن جیسی نئی ٹیکنالوجیز میں سعودی عرب اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون واشتراک بڑھانا چاہتا ہے۔نیز جرمنی خلیجی ریاستوں سے بڑی مقدار میں یہ ’سبزایندھن‘درآمد کرسکتا ہے۔

جرمن چانسلر علاقائی طاقتوں کے ساتھ سیاسی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں اور وہ دوسری سمت چین اور روس کا بھی توڑ کرنا چاہتا ہے۔

اس سے پہلےجرمن چانسلراولف شُلز خطۂ خلیج کے دوروزہ دورے کے پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ پہنچے تھے۔

مکہ ریجن کے گورنر شہزادہ خالد بن فیصل آل سعود نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع جدہ ہوائی اڈے پر جرمن چانسلراور ان کے وفد کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔

اس کے بعد انھیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے جدہ السلام شاہی محل لے جایا گیا جہاں انھوں نے دوطرفہ تعلقات، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

شلز ہفتے کے روز سعودی عرب سے متحدہ عرب امارات کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔وہ اتوار کی صبح اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کریں گے۔اس کے بعد وہ مذاکرات کے لیے قطر جائیں گے اور پھر وہاں سے جرمنی لوٹ جائیں گے۔

جرمن حکومت کے ترجمان نے گذشتہ سوموار کو برلن میں صحافیوں کوبتایا تھا کہ خلیجی ریاستوں کے اختتام ہفتہ پرچانسلر کے اس دورے میں دیگرامورکے علاوہ جرمنی میں سرمایہ کاری کے مواقع پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں