روس اور یوکرین

رضاکارانہ ہتھیارپھینکنے اورلڑنے سے انکارپرروسی فوجیوں کو سخت سزائیں ملیں گی

صدر پوتین نے ترمیمی قانون پردست خط کردیے، فوج میں بھرتی غیرملکیوں کوروسی شہریت تک رسائی حاصل ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے صدرولادی میر پوتین نے رضاکارانہ طور پر ہتھیارڈالنے،فوج سے بھگوڑا ہونے اور لڑنے سے انکار کرنےوالے فوجیوں کو 10 سال تک قید کی سزادینے کے ترمیمی قانون پر دست خط کر دیے ہیں۔

روسی صدر نے گذشتہ بدھ کے روز تین لاکھ ریزروفوجیوں کومتحرک کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے خلاف روس بھرمیں احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور لوگ اس کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

اس سے ایک روز قبل روس کی پارلیمنٹ نے فوجی نقل وحرکت کے دوران میں جرائم کی سزاؤں کو سخت کرنے کے لیے ترامیم کی منظوری دی تھی اور صدر نے اب اس ترمیمی قانون پردست خط کر دیے ہیں۔

اس قانون کے تحت ایسے روسی فوجی جو ’بلا اجازت‘راہ فراراختیارکرجاتے ہیں، لڑنے سے انکار کردیتے ہیں یا حکم عدولی کے مرتکب ہوتے ہیں،تو انھیں دس سال تک قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔لوٹ مار کرنے پر 15 سال قید کی سزا ہو گی۔

کریملن نے یہ قانونی ترامیم ایک ایسے وقت میں کی ہیں جب وہ یوکرین میں فوجی کارروائی میں شریک اپنی فوج کی صفوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

صدرپوتین نے ہفتے کے روز ایک اورقانون پر بھی دست خط کیے ہیں۔اس کے تحت ماسکو کی فوج میں بھرتی ہونے والے غیرملکیوں کو روس کی شہریت تک رسائی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

جو بھی غیرملکی روسی فوج میں کم سے کم ایک سال کا عرصہ گزاریں گے،وہ ملک میں پانچ سال کی رہائش کے لیے معمول کے تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔

بظاہر اس اقدام کا ہدف بنیادی طور پرسابق سوویت جمہوریاؤں سے تعلق رکھنے والے وسط ایشیائی تارکین وطن ہیں۔ انھیں عام طورپرسخت ، کم تن خواہ والی ملازمتوں پر بھرتی کیاجاتا ہے۔

گذشتہ منگل کو ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے سخاروف مائیگریشن سینٹرمیں ایک بھرتی مرکز کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ مرکزتارکین وطن کے لیے ایک اہم گذرگاہ ہے۔

روس میں اس قانون کے نافذالعمل ہونے سے پہلے ہی کرغزستان اور ازبکستان کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ کسی بھی مسلح تصادم میں حصہ نہ لیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں