روس کو ڈرون کی فراہمی پر یوکرین نے ایران سے تعلقات محدود کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین نے جمعہ کو کہا ہے کہ اس نے تہران کے روسی افواج کو ڈرون فراہم کرنے کے فیصلے پر ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے "برائی کے ساتھ تعاون" قرار دیا ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ اب تک اس تنازع میں آٹھ ایرانی ڈرون مار گرائے جا چکے ہیں۔

یوکرین اور امریکا نے ایران پر روس پر ڈرون فراہم کرنے کا الزام لگایا ہے، لیکن تہران اس الزامات کی تردید کرتا ہے۔

جمعہ کو روسی فوج نے اپنے حملوں میں ایرانی ڈرون کا استعمال کیا۔ دنیا برائی کے ساتھ تعاون کے ہر معاملے کو جان لے گی اور اس کے ایسے ہی نتائج ہوں گے۔
جنوبی یوکرین کے فوجی حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے جمعہ کو اوڈیسا کی بندرگاہ کے قریب سمندر کے اوپر سے چار شاہد -136 ڈرون کو مار گرایا۔

یوکرین کی فضائیہ نے علیحدہ طور پر اطلاع دی ہے کہ اس نے مہاجر-6، ایک بڑے ایرانی ڈرون کو پہلی بار مار گرایا ہے۔

یوکرین کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے روس کو ہتھیاروں کی فراہمی ایک دشمنانہ عمل ہے جو یوکرین اور ایران کے درمیان تعلقات کو شدید دھچکا دیتا ہے۔"

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس دشمنانہ عمل کے جواب میں یوکرین کی جانب سے ایرانی سفیر کی منظوری واپس لینے کے ساتھ ساتھ کیف میں ایرانی سفارت خانے میں سفارتی عملے کی تعداد میں نمایاں کمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ خط چارج ڈی افیئرز کو پہنچایا گیا، کیونکہ مستقل نمائندہ منوشہر مرادی اس وقت یوکرین میں نہیں ہیں۔

عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب اہداف کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے کے بعد ڈرون جاسوسی اور حملے دونوں میں روس کے لیے کارآمد ثابت ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں