ولی عہد کی براہ راست مداخلت سے غیر ملکی قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی: سعودی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے العربیہ کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ 10 غیر ملکی قیدیوں کی رہائی کے پیچھے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی براہ راست مداخلت نے کام کیا۔

سعودی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کی نگرانی میں روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے سب سے بڑے معاہدے کی تفصیلات بتائی ہیں۔ فیصل بن فرحان نے اس حوالے سے امریکی "فاکس نیوز" کو خصوصی انٹرویو دیا اور کہا ولی عہد محمد بن سلمان انسانیت پر مبنی اقدام کے تناظر میں پوتین کو قیدیوں کی رہائی کیلئے قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

فیصل بن فرحان نے کہا ایسی صورتحال میں ہمیشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات چیت بہت پیچیدہ تھی تاہم آخر کار ولی عہد روسی صدر پیوتن کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ یہ ایک انسانی ہمدردی کا کام ہے جسےانجام دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا عزت ماٰب ولی عہد طویل عرصہ سے عالمی معاملات میں سرگرم ہیں اور اب ایسے رہنما کے طور پر ابھرے ہیں جس کی توجہ نتائج کے حصول پر مرکوز ہوتی ہے۔ اسی طرز عمل کے باعث ولی عہد کو مختلف ممالک کے رہنماؤں میں بہت غیر معمولی پزیرائی بھی حاصل ہے۔

فیصل نے بتایا کہ قیدیوں کی رہائی کی کوششیں اپریل میں شروع کی گئی تھیں۔ رہا ہونے والے 10 قیدیوں میں سے 5 برطانوی تھے۔

ولی عہد نے برطانوی وزیر اعظم سے اپریل میں ملاقات کی تھی اور اس کے بعد سے وہ اس معاملے میں بھرپور سرگرم ہوگئے تھے۔ انہوں نے برطانوی شہریوں کے مسئلے کو سمجھا اور پھر انہیں نکالنے کیلئے روسی صدر پوتین کو معاہدے پر قائل کرنے کی بھرپور کوشش شروع کر دی۔ اب سعودی ولی عہد اس معاملے کا ایک گہرا تعلق بن چکے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ فیصل نے کہا قیدیوں کو رہائی دلانے کیلئے سعودی رابطے صرف روس اور یوکرین تک محدود نہیں تھے۔ بلکہ سعودی عرب نے بحران کو جلد از جلد حل کرنے کیلئے دیگر بین الاقوامی فریقوں سے بھی رابطے کئے۔ مارچ میں بحران شرو ع ہوتے ہی سعودی ولی عہد نے زیلنسکی، پوتین اور دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت اور اس بحران کو حل کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال شروع کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں