ایرانی سکیورٹی فورسز کےمظاہرین کے خلاف دانستہ گولی چلانے کے خوفناک مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف استعمال کیے جانے والےطاقت کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود ایران میں جاری مظاہرے اتوار کو اپنے نویں روز میں جاری رہے۔

مار پیٹ سے لے کر جان بوجھ کر براہ راست گولیاں چلانے تک انٹرنیٹ بند کرنے سے لے کربہت سے کارکنوں کوگرفتار کرنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

ان پرتشدد مظاہروں نے سنہ 2019ء کے ایران میں حکومت مخالف احتجاج کی یاد تازہ کردی۔

کچھ ریکارڈنگز میں دکھایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے پیران شہر، مہاباد اور ارمیا میں غیر مسلح مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائیں۔

اس کے علاوہ، "ایران ہیومن رائٹس" کی طرف سے شائع کردہ ایک ویڈیو میں ایک سکیورٹی افسر کو تہران کے جنوبی مضافات میں واقع شہری ری میں مظاہرین پر AK-47 مشین گن سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

اس کے علاوہ کارکنوں نے ویڈیو کلپس شائع کیے ہیں۔ جن میں سڑک کے بیچوں بیچ خواتین مظاہرین کی پولیس اور سکیورٹی کے درمیان جھڑپیں دکھائی گئی ہیں۔ ایرانی پولیس خواتین پر بدترین تشدد کررہےہیں۔ یہ خواتین ایک ہفتہ قبل مذہبی پولیس کے ہاتھوں مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والی مہسا امینی کے واقعے کے بعد ہو رہے ہیں اور احتجاج کا دائرہ ملک بھر میں پھیل گیا ہے۔

درایں اثنا ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سکیورٹی فورسز پر مظاہرین کو "جان بوجھ کر گولی مارنے" کا الزام عاید کرتے ہوئے جبر کے خاتمے کے لیے فوری بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی نے ملک میں واٹس ایپ، انسٹاگرام اور دیگر میسجنگ ایپلی کیشنز کو بلاک کرنے کے ساتھ "جان بوجھ کر انٹرنیٹ بند" کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نےسپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگانے والے مظاہرین کو دھمکی دی تھی وہ فسادات پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں