جرمنی کی آر ڈبلیو ای اورابوظبی کی نیشنل آئل کمپنی کے درمیان ایل این جی کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن فرم آر ڈبلیو ای نے ابوظبی کی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی) کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے۔اس کے تحت دسمبر کے آخر تک یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کویواے ای سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی ) مہیا کی جائے گی۔

یہ اعلان توانائی کے متبادل وسائل کو محفوظ بنانے کے لیے چانسلراولف شُلز کے خطۂ خلیجی کے دو روزہ دورے کے دوسرے روز سامنے آیا ہے۔

شُلز نے اس معاہدے کے اعلان سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ’’ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں ایل این جی کی پیداواراس مقام تک پہنچ جائے جہاں موجود طلب کو روس کی پیداواری صلاحیت کا سہارا لیے بغیر پورا کیا جا سکے‘‘۔

جرمن یوٹیلٹی آر ڈبلیو ای نے کہا کہ یواے ای سے ایل این جی کی ترسیل کی مقدار 137،000 مکعب میٹر ہوگی اور اس کی پہلی کھیپ ہیمبرگ کے قریب واقع برنس بوئٹل میں فلوٹنگ ایل این جی ٹرمینل کومہیا کی جائے گی۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ’’یہ معاہدہ جرمنی میں ایل این جی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اورگیس کی زیادہ متنوع درآمدات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے شُلز کے ساتھ اس ضمن میں معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔اس میں توانائی کی سلامتی اور صنعتی نمو کو تیز کرنے کا احاطہ کیا گیا ہے۔

یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام نے اتوار کے روز بتایا کہ اے ڈی این او سی نے 2023 میں جرمنی کے لیے ایل این جی کارگوزکی ایک غیر معیّنہ تعداد بھی محفوظ کر لی ہے۔

واضح رہے کہ جرمنی ماضی قریب تک گیس کے لیے روس پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا لیکن فروری میں روس کے یوکرین پرحملے کے بعد سے اپنی توانائی کی درآمدات کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں