روس اور یوکرین

یوکرین میں جنگ کے باوجود ہزاروں یہودی زائرین کی اپنے مذہبی مقام اومان میں آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کے شہراومان میں ہزاروں کی تعداد میں حسیدی یہودی (الحاسيديم)اپنی سالانہ زیارت کے لیے جمع ہوئے ہیں جبکہ حکام نے انھیں جنگ کی وجہ سے سفر ترک کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

ہرسال،ہزاروں حسیدی یہودی زائرین دنیا بھر سے اومان آتے ہیں اور وہ یہودیوں کے نئے سال روش ہشانا کے موقع پرحسیدی یہودیت کی اہم شخصیات میں سے ایک کے مقبرے کی زیارت کرتے ہیں۔

یوکرین کا وسطی شہراومان فرنٹ لائن سے نسبتاً بہت دور واقع ہے، لیکن یوکرین اور اسرائیلی حکام نے زائرین پرزوردیا ہے کہ وہ اس سال 25 سے 27 ستمبر تک ہونے والی تقریبات میں شرکت نہ کریں۔

لیکن اس انتباہ کے باوجود، روایتی سیاہ لباس میں ملبوس حسیدیم کے ہجوم اومان میں جمع ہورہے تھے اورانھوں نے سڑکوں پرجشن منایا۔ایک زائر ہارون ایلن کا کہنا تھا کہ ’’یہ خدا کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے قابل ہونے کے لیے سال کا سب سے اہم دن ہے اور ایسا کرنے کے لیے ایک عظیم جگہ ہے‘‘۔

حسیدی زائرین اکثرالٹرا آرتھوڈوکس تحریک کے بانی ربی نچمین کے ایک مذہبی متن کا حوالہ دیتے ہیں جو 1810 میں اس شہر میں فوت ہوگئے تھے۔اس میں انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ ’’اگر وہ روش ہشانا کے موقع پران کے مقبرے کی زیارت کے لیے آتے ہیں تو وہ ان زائرین کو جہنم سے بچائیں گے‘‘۔

48 سالہ ڈاکٹر ایلن کا کہنا تھا کہ ’’جب ہم یہاں پہنچے تو سائرن بج رہے تھے لیکن ہم سائرن کی ایسی آوازوں کے عادی ہیں اور ہم خود کو بہت محفوظ محسوس کرتے ہیں‘‘۔

پولیس نے قبرکے آس پاس کے علاقے تک رسائی کے لیے ایک وسیع حصار قائم کررکھاتھا۔پولیس اہلکار شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال کے بعد صرف رہائشیوں اور حسیدیم کو جانے دے رہے تھے۔

علاقائی پولیس کی ترجمان زویا ووفک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اومان میں تیوہار کے دوران میں نہ صرف شراب، آتش بازی اور پٹاخے بلکہ کھلونا بندوقیں تک فروخت کرنے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔شہر میں مقامی وقت رات 11 بجے (20 جی ایم ٹی) سے صبح 5 بجے تک کرفیو بھی نافذ ہے۔

ان پابندیوں کے باوجود یہودی عالم کی قبر پراتوار کے روز جشن منایاجارہا تھا اور زائرمرد اور لڑکے وہاں عبادت کررہے تھے۔ان کی بیک وقت دعاؤں کی صدائیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔

روس کی جانب سے حملوں کے خدشے کے پیش نظر پولیس تیوہار کے اختتام تک زائرین کی صحیح تعداد جاری نہیں کرے گی۔زویا ووفک نےبتایا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ یوکرین پرروس کا مکمل حملہ ہے اور دشمن معلومات کی نگرانی کررہا ہے‘‘۔

تاہم انھوں نے مزید کہا:’’میں صرف ایک ہی بات کَہ سکتی ہوں کہ دسیوں ہزار(زائرین پہلے ہی پہنچ چکے ہیں)۔یوکرین کی غیر سرکاری تنظیم یونائیٹڈ جیوش کمیونٹی کا کہنا ہے کہ 23 ہزار سے زیادہ زائرین اومان پہنچ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ 24فروری کو روس کے یوکرین پرحملے کے آغاز کے بعد سے دارالحکومت کیف سے دوسو کلومیٹر دور واقع وسطی شہراومان کو کئی بار جارح فوج کے حملوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں