روس کا جاسوسی کے الزام میں جاپانی قونصل جنرل کی گرفتاری کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی فیڈرل سکیورٹی سروس نے کل پیر کو ولادی ووستوک میں جاپانی قونصل جنرل کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ یہ گرفتاری پرائیموری علاقے کی صورتحال پر پابندیوں کے اثرات کے بارے میں غیر مذاکراتی معلومات حاصل کرنے کے دوران کی گئی۔

جاسوسی کی کارروائی ناکام بنا دی گئی

ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پرائیموری میں فیڈرل سکیورٹی سروس نے ولادیووستوک میں جاپان کے قونصل جنرل موٹوکی تاتسونوری کے ایک "جاسوسی ایکٹ" کو ناکام بنا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق اور فیلڈ آپریشنز کے نتیجے میں جاپانی سفارت کار کو فلیگرینٹ ڈیلیکٹو میں گرفتار کیا گیا جب کہ وہ ایسی معلومات حاصل کر رہے تھے جنہیں گردش نہیں کرنا چاہیے۔ وہ ویہ سب کچھ مالی انعام کے بدلے میں کررہے تھے تاکہ ایشیا کے ایک ملک کے ساتھ روسی تعاون کے موجودہ پہلوؤں کے بارے میں بحرالکاہل کا خطہ اور پرائموری خطے کی صورتحال پر پابندیوں کا اثرات کا پتا چلایا جا سکے۔

بیان کے مطابق، ماسکو نے سفارتی ذرائع کے ذریعے جاپان سے احتجاج بھی درج کیا۔ جاپانی سفارت کار کوناپسندیدہ شخصیت بھی قرار دیا ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق سامان کی برآمد پر پابندی

اس سے قبل پیر کے روز جاپان کے چیف کیبنٹ سیکرٹری ہیروکازو ماتسونو نے اعلان کیا تھا کہ ٹوکیو نے روس کو کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق سامان کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ماسکو کو یوکرین کے خلاف اس کی جنگ کی وجہ سے اضافی سزا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ روس یوکرین کے خلاف جنگ میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرےگا۔

21 کالعدم تنظیمیں

جاپان نے 21 روسی تنظیموں جیسے سائنس لیبارٹریز کو بھی موجودہ برآمدی پابندی میں شامل کیا ہے، پیر کے کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک حکومتی بیان کے مطابق گزشتہ ہفتے کے G7 اجلاس میں وزیر خارجہ کے اعلان کردہ نئے پابندیوں کے اقدامات کی باضابطہ طور پر منظوری دی تھی۔

ماتسونو نے ایک میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ "جاپان کو یوکرین پر روسی حملے کے دوران جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان پر گہری تشویش ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ جاپان یوکرین کی حمایت اور روس پر پابندیاں عائد کرنے میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں