سابق امریکی سکیورٹی کانٹریکٹر ایڈورڈ اسنوڈن کو روسی شہریت مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے سابق امریکی سکیورٹی کنٹریکٹر ایڈورڈ اسنوڈن کو روس کی شہریت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق روسی رہنماؤں کی طرف سے دسخط کیے گئے معاہدے کے مطابق سابق امریکی سکیورٹی کنٹریکٹر ایڈورڈ اسنوڈن کو روسی شہریت دی گئی ہے۔

سرکاری ویب سائٹ پر شائع کیے گئے فرمان کے تحت ایڈورڈ اسنوڈن ان 75 غیر ملکیوں میں شامل ہیں جن کو روس کی شہریت سے نوازا گیا ہے۔

39 سالہ ایڈورڈ اسنوڈن امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سابق کنٹریکٹر ہیں جو امریکا میں سرکاری نگرانی کے پروگراموں کی تفصیلات سے متعلق خفیہ دستاویزات لیک کرنے کے بعد امریکا کو مطلوب ہیں اور وہ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے 2013 سے روس میں مقیم ہیں۔

لیک ہونے والی دستاویزات میں نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی طرف سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کی گئی کارروائیوں کا اعتراف کیا گیا تھا جس میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔

قبل ازیں ایڈورڈ اسنوڈن کو روس میں 2020 میں مستقل رہائش فراہم کی گئی تھی اور اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ وہ امریکا کی شہریت ترک کرنے کے بغیر روسی شہریت کے لیے درخواست دینے کا سوچ رہے ہیں۔

اسی سال ایک امریکی عدالت میں ثابت ہوا تھا کہ ایڈورڈ اسنوڈن نے جس پروگرام کو بے نقاب کیا تھا وہ غیر قانونی تھا اور عوامی سطح پر اس پروگرام کا دفاع کرنے والے امریکی انٹیلی جنس سربراہ جھوٹ بول رہے تھے۔

دوسری جانب امریکی حکام برسوں سے اس کوشش میں ہیں کہ ایڈورڈ اسنوڈن کو ملک میں واپس لایا جائے تاکہ وہ جاسوسی کے الزامات پر امریکا میں مجرمانہ کارروائی کا سامنا کرے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس کی طرف سے ان کو شہریت دینے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کی وجہ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تعلقات شدید بگاڑ کا شکار ہیں۔

ایڈورڈ اسنوڈن کے وکیل اناتولی کچرینا نے روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نووستی کو بتایا کہ سابق امریکی کنٹریکٹر کی امریکی اہلیہ لنزسے ملز اس وقت ان کے ساتھ روس میں مقیم ہیں اور وہ بھی روسی پاسپورٹ کے لیے درخواست دیں گی۔

ایڈورڈ اسنوڈن اور ان کی اہلیہ لنزسے ملز کے ہاں دسمبر 2020 میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی تھی، اور ان کے بچے کو پہلے ہی روسی پاسپورٹ مل چکا ہے۔

واضح رہے کہ روس میں مقیم ایڈورڈ اسنوڈن زیادہ سرگرام نظر نہیں آتے تاہم کبھی کبھار وہ سوشل میڈیا پر روسی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

انہوں نے 2019 میں کہا تھا کہ اگر انہیں منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دی جاتی ہے تو وہ امریکا واپس جانے کو تیار ہیں اور اس وقت انہوں نے روسی شہریت ملنے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے2017 میں کہا تھا کہ ایڈورڈ اسنوڈن نے امریکی خفیہ دستاویزات لیک کیے تھے مگر وہ ’غدار‘ نہیں ہیں۔

روسی صدر نے گذشتہ ہفتے یوکرین میں جاری لڑائی کے لیے فوج کی تعداد میں اضافے کے لیے روسی مردوں کو متحرک کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ایڈورڈ اسنوڈن کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا بشرطیکہ ان کے پاس روسی فوج میں کوئی پیشگی تجربہ نہ ہو۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے خبر رساں اداروں کو بتایا تھا کہ ’ایڈورڈ اسنوڈن کو ان کی درخواست پر روس کی شہریت دی گئی ہے‘۔

واضح رہے کہ ایڈورڈ اسنوڈن جاسوسی کے الزام میں امریکا کو مطلوب ہیں لیکن انہوں نے روس میں پناہ حاصل کررکھی ہے۔

ایڈورڈ اسنوڈن امریکا سے فرار ہونے والے سابق فوجی کنٹریکٹر ہیں اور وہ امریکی تاریخ میں سکیورٹی راز افشا کرنے کے سب سے بڑے واقعے میں ملوث تھے اور میڈیا کو انہوں نے بتایا تھا کہ کس طرح این ایس اے غیر ملکی رہنماؤں اور ممالک کی جاسوسی کے لیے کس طرح ڈیٹا چھانتی ہے اور ان پر نظر رکھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں