امریکانےعراق میں ایران کے حملے کی مذمت کردی؛ تخریبی رویّے کولگام ڈالنے کاعزم

ایران کی اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف میزائلوں اورڈرونز کے کھلم کھلا استعمال پرمذمت کی جانا چاہیے:جیک سلیوان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے بدھ کے روز عراق کے شمالی علاقے میں ایران کے ڈرون اور بیلسٹک میزائل سے حملوں کی مذمت کی ہے اور وائٹ ہاؤس نے خطے میں تہران کے عدم استحکام کے رویے کولگام ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے عراق کے خودمختار خطے کردستان پر حملوں کو 'عراقی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بلاجواز خلاف ورزی' قراردیا ہے اورایرانی حکومت کو عراق میں مزید حملے کرنے کی دھمکیوں پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

صدر جوبائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کردستان اور بغداد میں عراقی رہنماؤں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان حملوں کو عراق اور اس کے عوام کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے اپنے ہمسایوں کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز کے کھلم کھلا استعمال کے علاوہ یوکرین میں جارحانہ جنگ کے لیے روس کو ڈرونز مہیا کرنے اور مشرق اوسط کے پورے خطے میں آلہ کارملیشیاؤں کی حمایت کی عالمی سطح پر مذمت کی جانا چاہیے۔

سلیوان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا مشرق اوسط میں ایران کی تخریبی سرگرمیوں کولگام دینے کے لیے پابندیوں اور دیگر ذرائع پرعمل پیرا رہے گا۔

سلیوان نے مہسا امینی کے قتل کے بعد ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی سرحدوں کے پار حملوں کے ذریعے اپنے داخلی مسائل اوراپنی آبادی کی جائز شکایات سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

امریکانے یہ بیان ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کی جانب سے شمالی عراق میں ایرانی کرد عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں جاری کیا ہے۔ان حملوں میں نو شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے۔

عراق کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی سفیر کو طلب کر کے عراقی علاقوں پران ڈرون اور میزائل حملوں پر احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا اور یہ باورکرایا جائے گاکہ عراق ایسی کسی کارروائی کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں