لزٹرس کی حکومت بنتے ہی برطانوی معیشت گرنے لگی

چند دنوں میں سٹاک ایکسچینج کو 500 ارب ڈالر کا نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نئی برطانوی وزیر اعظم لز ٹرس کے انے کے بعد محض چند دنوں کے دوران برطانوی معیشت کو سخت دھچکا لگ چکا ہے۔ برطانوی سٹاک مارکیٹ کے کم از کم 500 ارب ڈالر ڈوب گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں برطانوی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سخت مجروح کیا ہے۔

لز ٹرس نے ایسے ماھول میں اقتدار سنبھالا ہے جب برطانوی معیشت پہلے ہی کساد بازاری کی کا شکار ہو رہی تھی۔ اب ٹرس حکومت کی نئی معاشی پالیسیوں نے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ان نئی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے افراط زر اور قرضوں میں اضافے کے علاوہ شرح سود بھی بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں برطانوی پاونڈ کی قیمت نیچے آرہی ہے۔

معاشی ابتری لانے والی ان پالییسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ماہر معیشت سسنہ سٹریٹر کا کہنا ہے اس صورت حال سے نکلنے کی ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ ایک یوٹرن لیا جائے بہتری لائی جا سکتی ہے۔ لیکن انتطامیہ اپنا بوجھ بڑھا کر خود کو زمین میں دھنساتی چلی جارہی ہے۔ '

اہم بات یہ ہے کہ پانچ سستمبر جب سے ٹرس کا کنذرویٹو پارٹی کی سربراہی پر کنفرم کیا گیا ہے کہ سٹاک مارکیٹ 300 ملین نیچے آچکی ہے۔ اسی طرح برطانو حکومت کے بانڈز کی قدر میں بھی کمی آئی ہے۔ ان کی قدر مارکیٹ میں 160 ارب پاونڈ نیچے آ چکی ہے۔

بلوم برگ کی طرف سے پیش کردہ اعدادو شمار میں کہا گیا ہے کہ دوہزار دس سے لے کر اب تک کے دورانیے میں پہلی بار حکوومتی بانڈز کی قدر میں چار فیصد تک کمی ہو چکی ہے۔ لیکن حکومت کا رویہ اس بارے میں یہ ہے کہ افراط زر جائے بھاڑ میں ۔ ہمیں صرف شرح نمو کے حوالے سے دیکھنا ہے۔

پرنسپل گلوبل انویسٹرز کی چیف سٹریٹجسٹ سیما شاہ نے اس بارے میں کہا ہے ' اس وقت صرف بانڈز اوپر جا سکیں گے اور اس کے نتیجے میں بہت سی مثبت اقدامات ٹیکسوں میں کٹوٹی سے ریورس ہو جائیں گے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں