منشیات کی افغانستان اور ایران سے خلیج عمان تک رسائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی کوسٹ گارڈ کے بحری جہاز نے عالمی پانیوں میں مداخلت کی بڑی کارروائی کی ۔ امریکی بحری افواج نے خلیج عمان میں ایک کشتی کو روکا اور اس سے دو ٹن اور 410 کلو گرام ہیروئن برآمد کرلی ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ کا یہ بحری جہاز 150 ویں کمبائنڈ میری ٹائم فورس کے تحت کام کرتا ہے۔

پانچویں بحری بیڑے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ بین الاقوامی افواج کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں غیر قانونی منشیات کیخلاف سب سے بڑا آپریشن تھا تاہم بیان میں زیادہ تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

بیان میں صرف یہ اشارہ کیا گیا کہ امریکی کوسٹ گارڈ کی یہ کشتنی 150 ویں کمبائنڈ میری ٹائم فورس کے اندر کام کر رہی ہے۔

واضح رہے 150 ویں فورس سعودی عرب کی گردش کرتی قیادت کے زیر تحت کام کرتی ہے۔ 150 ویں فورس کو دنیا کی سب سے بڑی مشترکہ بحری فورس قرار دیا جاتا ہے۔

پانچویں بحری بیڑے کے کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ منشیات کی اتنی بڑی مقدار خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے عالمی شراکت داروں کے درمیان گہری وابستگی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

ریئر ایڈمرل بریڈ کوپر نے مزید کہا کہ انہیں اس آپریشن پر فخر ہے جس کی قیادت سعودی عرب کی اور اس آپریشن میں حصہ لینے والوں کا تعلق مالتھروپ کے عملہ سے تھا۔

ہتھیاروں کی روک تھام

العربیہ اور الحدث کی اضافی معلومات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جوائنٹ فورس 150 نے گزشتہ ہفتوں کے دوران عالمی پانیوں میں سخت کارروائیاں کرکے اس علاقے میں بڑی تعداد میں ہتھیاروں کی آمد کو روکا ہے۔ تاہم ان کارروائیوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔

جوائنٹ فورس نے جولائی 2022 میں بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اصل میں برطانوی بحریہ کی جانب سے کیا گیا یہ آپریشن جنوری اور فروری میں کیا گیا تھا۔ یعنی یہ اسلحہ جولائی میں نہیں بلکہ اس سے 6 ماہ قبل پکڑا گیا تھا۔

اس آپریشن کے علاوہ بھی مشترکہ فورس نے عالمی پانیوں کے ذریعہ منشیات کی سمگلنگ کو روکنے کی بڑی کارروائیاں کی ہیں اب منشیات کی بڑی مقدار کے پکڑے جانے سے بہت سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ اس خطے میں اصل میں ہو کیا رہا ہے۔

افغانستان کی منشیات

27 ستمبر کو کی گئی کارروائی میں اتنی بڑی مقدار میں منشیات کے پکڑے جانے سے واضح ہو رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر منشیات کی کاشت دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ اسی منشیات کی کاشت سے ہیرون تیار کی جاتی ہے۔

امریکیوں کا خیال ہے کہ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ منشیات کی کاشت کو روکنا چاہتے ہیں۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ جس کا بھی طالبان تنظیم سے اچھا تعلق ہے اور وہ طالبان کی مدد کرتا ہے تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے کہ وہ منشیات کے پودے کاشت کرے، اس سے ہیروئن بنائے اور ایک طرف خود لاکھوں ڈالر کمائے تو منافع کا کچھ حصہ تنظیم کو بھی دے دے۔

طالبان کو افغانستان میں اپنی سرگرمیوں اور "حکمرانی" کے لیے فنڈز کی اشد ضرورت ہے ۔ دوسری طرف بہت سے ملک بالخصوص یورپ اور امریکہ طالبان کی حکوت کو تسلیم نہیں کرتے اور طالبان سے براہ راست معاملات نہیں کرتے۔ مغربی ملکوں کے بینکوں میں افغان حکومت کے اثاثوں تک طالبان کی رسائی بھی روک دی گئی ہے۔

ایرانی کردار

امریکی بحریہ کے اعداد و شمار میں منگل 27 ستمبر کو روکی جانے والی کشتی کی لانچ پورٹ کا انکشاف نہیں کیا گیا ۔ تاہم امریکی سمجھتے ہیں کہ خلیج عمان کے علاقے کو سمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی بحریہ نے روکی جانےوالی کشتی کے ملاحوں کی شناخت بھی ظاہر نہیں کی ہے۔

العربیہ اور الحدیث کی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی بحریہ نے کشتی کو روکا اور اس میں موجود منشیات قبضہ میں لی اور ملاح اور سوار وں کو سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

تصدیق کی گئی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان کا ایرانی سرزمین پر انحصار زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایرانی سرزمین کے ذریعے منشیات کی کھیپ خلیج عمان کے ساحلوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ ایرانی حکام بھی اس عمل کے اس طرح سہولت کار بنتے ہیں کہ ان کی جانب سے منشیات سمگلنگ کی اجازت دی جاتی ہے۔

حالیہ برسوں میں ’’ ایرانی کارروائیوں‘‘ میں خلیجی ریاستوں میں منشیات لے جانے اور حوثیوں کو ہتھیاروں کی ترسیل کو ہدف بنایا گیا ہے۔ ۔کچھ اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو سالوں کے دوران سمگل ہونے والی منشیات اور ہتھیاروں کی مالیت 2 ارب امریکی ڈالر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں