کینیڈا میں سکھوں کا اپنی آزاد ریاست کےقیام کے لیے ریفرنڈم، بھارت برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کینیڈا میں انڈینز کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ 18 ستمبر کو اونٹاریو کے بریمپٹن شہر میں خالصتان کے حامی ایک گروپ 'سکھس فار جسٹس' نے ایک 'خالصتان ریفرینڈم' کا انعقاد کیا۔ لوگوں نے اس کی سوشل میڈیا پر تصاویر بھی شیئر کی تھیں۔

دوسری طرف بھارتی حکومت نے کینیڈا میں سکھ برادری کی طرف سے الگ ریاست کے لیے کی جانے والی سرگرمیوں پر متعدد بار وارننگ دی ہے۔

اس سے قبل کینیڈا کے کچھ علاقوں سے تشدد کی خبریں سامنے آئی تھیں جس کے بعد انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے کینیڈا میں رہنے والے انڈین شہریوں اور طلبہ کو خبردار رہنے کی ہدایت کی تھی۔

مگر کینیڈا میں رہنے والے سکھوں کی رائے اس حوالے سے منقسم ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایک بڑے طبقے کے لیے یہ وارننگ صرف دکھاوا ہے۔ دوسرے طبقے کا کہنا ہے کہ یہ وارننگ 'کینیڈا میں رہنے والے سکھوں اور پنجاب کی آزادی کے حامیوں کے آزادی اظہار کے حق کی خلاف ورزی' ہے۔

جب کہ کینیڈا کے حکام نے اس سرگرمی کا دفاع اظہار کی آزادی کی ایک مشق کے طور پر کیا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے کینیڈا پر الزام لگایا کہ وہ انتہا پسندوں کو "سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کی کارروائیاں" کرنے کی اجازت دے رہا ہے جو کہ "بالکل ناقابل قبول" ہیں کیونکہ وہ ہندوستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق سک کینیڈا میں اپنے شہریوں اور طلباء کو جمعہ کو ایک انتباہ میں، ہندوستان نے انہیں متنبہ کیا کہ وہ وہاں نفرت پر مبنی جرائم اور فرقہ وارانہ تشدد میں "تیز اضافہ" کے درمیان "محتاط رہیں اور چوکس رہیں"۔

ہندوستان سے آنے والے تارکین وطن کینیڈا کی آبادی کا کم از کم 1.4 فیصد ہیں، جن میں سکھوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے، خالصتان مہم نئی دہلی اور اوٹاوا کے درمیان تعلقات میں تیزی سے ایک حساس موضوع بنتی جا رہی ہے۔

ھس فار جسٹس کے قانونی مشیر گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ 'مودی حکومت سفارتی طریقوں سے یہ رائے شماری روکنے میں ناکام رہی جس کے بعد وزارتِ خارجہ نفرت کا ماحول پیدا کر رہی ہے۔'

انڈیا کی وارننگ

دی انڈیپینڈینٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق کینیڈین حکام نے اسے آزادی اظہار قرار دیا ہے۔

مگر انڈیا نے کینیڈا میں رہنے والے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ 'کینیڈا میں حالیہ عرصے میں انڈیا مخالف سرگرمیوں، نفرت پر مبنی جرائم اور نسلی بنیادوں پر تشدد میں اضافہ ہوا ہے' جس کے نتیجے میں لوگوں کو 'مزید خبردار' رہنا چاہیے۔
میڈیا سے 22 ستمبر کو بات کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اریندم باگچی نے کہا کہ 'یہ نام نہاد ریفرینڈم بالکل مضحکہ خیز ہے۔ یہ بنیاد پرست گروہوں کی ایک کوشش تھی۔ کینیڈین حکام کے ساتھ سفارتی سطح پر اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ کینیڈین حکومت نے کہا ہے کہ وہ انڈیا کی خود مختاری اور یکجہتی کی حامی ہے اور وہ اس نام نہاد ریفرینڈم کو قبول نہیں کریں گے۔'

اس کے ایک دن بعد انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے ستمبر 23 کو ایک بیان جاری کیا جس میں اُنھوں نے کہا کہ 'حکومت کینیڈا کے حکام سے بڑھتی ہوئی انڈیا مخالف سرگرمیوں، نفرت پر مبنی جرائم اور مختلف گروہوں کے درمیان تشدد کے حوالے سے بات چیت کر رہی ہے۔ وزارتِ خارجہ، کینیڈا میں انڈین سفارت خانے اور انڈین قونصل خانے نے کینیڈا کے حکام سے ان جرائم کی تحقیقات کی درخواست کی ہے کہ اس حوالے سے مناسب ایکشن لیا جائے۔ اب تک ذمہ داروں کو سزا نہیں دی گئی ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں