افغانستان وطالبان

ایران میں ہلاک ہونے والی لڑکی کے حق میں افغانی خواتین کا احتجاج

طالبان سکیورٹی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کرکے منتشر کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

طالبان کے سکیورٹی اہلکاروں نے اس وقت ہوائی فائرنگ کی جب ایرانی پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی نوجوان خاتون کے حق میں خواتین نے ایک احتجاجی ریلی نکالنے کی کوشش کی ۔ گذشتہ دو ہفتوں سے افغانستان کے پڑوسی ملک ایران میں اسی ہلاکت پر احتجاج جاری ہے۔

اسی سلسلے میں 25 کے قریب افغانی خواتین نے ایرانی سفارتخانے کے باہر احتجاج کی کوشش کی۔تاہم طالبان کی سکیورٹی فورس نے انہیں منتشر کر دیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے ان احتجاجی کواتین کو دیکھ کر ہوا میں گولیاں چلائیں جو بینر اٹھائے ہوئی تھیں کہ ایران گیا اب ہماری باری ہے۔ کابل سے ایران تک آمریت نہیں چاہیے اور اس طرح کے دوسرے نعرے درج تھے۔

سکیورٹی اہلکاروں نے برق رفتاری سے ان خواتین سے بینر چھین کر ان کے سامنے ہی انہیں پھاڑ دیا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد کابل سمیت بعض دوسرے شہروں میں کہیں کہیں خواتین نے مظاہرے کیے ہیں۔

تاہم طاالبان حکومت کی طرف سے مظاہروں پر پابندی عائد ہے۔ اس سے پہلے بھی سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرہ کرنے والی خواتین کو زبردستی منتشر کر دیا تھا اور میڈیا کو ان کے احتجاج کی کوریج سے روک دیا تھا۔

طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے بہت سی حکومتوں نے شرط عائد کی ہے کہ طالبان خواتین کی تعلیم میں رکاوٹ نہ پیدا کریں تو ان کی حکومت کو تسلیم کر لیا جائے گا۔

تاہم طالبان اپنی قوم کی بیٹیوں کو نیا تیار کیا جانے والا سلیبس پڑھانے کی بات کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ابھی تک کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو باقاعدہ تسلیم نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں