حوثی ملیشیا کے ہاتھوں 5 سال کے دوران 1700 یمنی خواتین کا اغوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے’ہیومن لیگ فار رائٹس اینڈ دی ویمن فار پیس کولیشن ان یمن‘ نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے دسمبر 2017 سے ستمبر 2022 کے دوران 1,781 یمنی خواتین کو اغوا کیا۔

سوئس شہر جنیوا میں انسانی حقوق کی کونسل کے 51 ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ انسانی حقوق کے سمپوزیم کے دوران ایسوسی ایشن نے عندیہ دیا کہ خواتین کی گرفتاریاں قانون کے دائرے سے باہر اور کسی قانونی طریقہ کار کے بغیر کی گئیں۔

اس سمپوزیم میں یمن میں ایران کے بازو حوثی ملیشیا کی جیلوں میں خواتین کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے اور اس کے تمام مخالفین پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے استعمال پر بات کی گئی جس میں حجہ گورنری سے 74 لڑکیوں کی حالیہ گرفتاری اور انہیں نصیریہ مرکزی جیل میں منتقلی شامل ہے۔

انہوں نے خواتین کے خلاف سزائے موت کی طرف اشارہ کیا کیونکہ 6 خواتین کوسزائے موت سنائی گئی ہے۔ خواتین قیدیوں میں ایک نابالغ بچی بھی شامل ہے۔

سمپوزیم نے خواتین کے خلاف ملیشیا کے جرائم پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ اس کے زیر کنٹرول علاقوں میں خواتین کی گرفتاری، اغوا، تشدد اورعصمت دری کے مسلسل عمل کی روشنی میں جو خطرناک حد تک شدت اختیار کر گئی۔ سیمپوزیم میں تمام گرفتار خواتین قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں